مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کا ہیلتھ کیئر سیکٹر جنگ بندی کے باوجود شدید بحران کا شکار ہے۔ ادویات اور طبی سامان کی آمد میں رکاوٹ کے باعث اسپتالوں کی آپریشنل صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بے ہوشی کی ادویات اور بنیادی آلات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کئی اسپتالوں میں آپریشنز جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ الثوابتہ نے انتباہ کیا کہ سرجریز کی معطلی سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور اس وقت تقریباً 5 لاکھ سے زائد آپریشنز التواء کا شکار ہیں، جو نظامِ صحت کے مکمل طور پر مفلوج ہونے کی علامت ہے۔
وزارتِ صحت کی تنبیہات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے؛ اسپتال اپنی گنجائش سے زیادہ کام کر رہے ہیں جبکہ ایندھن اور عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں داخل ہونے والا طبی سامان کل ضرورت کے 10 فیصد سے بھی کم ہے، جو پہنچتے ہی ختم ہو جاتا ہے اور اس سے حالات میں کوئی پائیدار بہتری نہیں آ رہی۔
اسماعیل الثوابتہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام جھوٹے سیکیورٹی بہانوں کے تحت اہم طبی آلات کی انٹری پر پابندی عائد کیے ہوئے ہیں، جو کہ شہریوں کے خلاف ادویات اور علاج کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور انسانی جانیں بچانے کے لیے تمام سرحدی گزرگاہوں کو غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ