مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک ایران کو اس کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے لیے ہر ممکن دباؤ استعمال کر رہے ہیں، جن میں پرامن جوہری صنعت کا حق بھی شامل ہے۔
ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال جنوری میں اقتدار سنبھالتے ہی 2018 کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم دوبارہ شروع کی تاکہ ایران کو اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت کے آغاز سے ہی ایران مخالف مہم کو مزید شدت دی، جس میں نئی پابندیاں اور دھمکیاں شامل تھیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں انہوں نے ہمیں ہمارے قومی حقوق سے دستبردار کرنے کی کوشش کی۔ جب کچھ مخصوص واقعات پیش آئے، تو انہوں نے جنگ مسلط کی اور صہیونی حکومت کو حملوں کی کھلی چھوٹ دے دی۔
عراقچی نے ایرانی قوم کی اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف شاندار مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ رہبر معظم نے بھی فرمایا، ایران ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف بالکل واضح تھا۔ ہم نے اعلان کیا کہ ہم مذاکرات میں مصروف ہیں، لیکن دوسری جانب سے حملہ کیا گیا، جو مکمل طور پر بے معنی، غیر منطقی اور غیر قانونی تھا۔ ہم نے واضح کیا کہ ایسے حملے کو بغیر کسی شرط کے روکا جائے تاکہ سفارت کاری کا راستہ دوبارہ کھل سکے۔
عراقچی کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت کو عالمی سطح پر وسیع مذمت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ایران کا مؤقف نہایت معقول اور منطقی تھا
آپ کا تبصرہ