31 مارچ، 2025، 12:52 PM

بڑی طاقتوں کی بلیک میلنگ کے مقابلے میں عالم اسلام کا اتحاد ضروری ہے، رہبر معظم انقلاب 

بڑی طاقتوں کی بلیک میلنگ کے مقابلے میں عالم اسلام کا اتحاد ضروری ہے، رہبر معظم انقلاب 

رہبر معظم نے اسلامی ممالک کے سفیروں اور ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقات میں کہا کہ فلسطین اور لبنان میں صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں کے بے مثال جرائم کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کا راستہ مسلم حکومتوں کا اتحاد، ہمدردی اور ایک آواز بننا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید الفطر کے موقع پر اسلامی ممالک کے سفیروں اور ایرانی اعلی حکام سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر امت مسلمہ اتحاد، ہمت اور بصیرت کا مظاہرہ کرے تو عید الفطر مزید برکت کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے تیز رفتار واقعات کا تقاضا ہے کہ وہ افراد جو ان حالات سے متاثر ہورہے ہیں یا مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں، وہ بھی تیزی اور دقت کے ساتھ ان کا جائزہ لیں اور اپنا موقف واضح کریں۔ آج یہ ذمہ داری اسلامی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عید الفطر، اسلام اور رسول اکرمؐ کی عزت و سربلندی کا ذریعہ ہے۔ یقینا عید الفطر ان مشترکہ اور اہم عوامل میں سے ایک ہے جو امت مسلمہ کو ایک دوسرے سے جوڑ کر ایک متحرک اور کارآمد پیکر میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آج اسلامی دنیا کا ایک حصہ شدید زخم خوردہ ہے؛ فلسطین زخمی ہے، لبنان زخمی ہے۔ اس خطے میں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، ان میں سے بعض کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان ممالک میں وہ مظالم ڈھائے گئے جن کا ہم نے اپنی تاریخ میں نہ مشاہدہ کیا اور نہ ہی سنا۔ کسی جنگ میں دو سال سے بھی کم عرصے میں تقریبا بیس ہزار بچوں کو قتل کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔

 رہبر معظم انقلاب نے فرمایا کہ فلسطین اور لبنان میں صیہونی رژیم اور اس کے حامیوں کے بے مثال جرائم کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کا راستہ مسلم حکومتوں کا اتحاد، ہمدردی اور ایک آواز بننا ہے۔

رہبر انقلاب: دو سال سے کم عرصے میں بیس ہزار بچوں کا قتل عام ایک بے مثال تاریخی جرم ہے/ عالم اسلام کو متحد ہونا چاہیے۔

 رہبر انقلاب نے آج صبح حکومتی عہدیداروں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا: آج عالم اسلام کا ایک حصہ شدید زخمی ہے، فلسطین زخمی ہے، لبنان زخمی ہے۔

 بعض جرائم جو اس خطے میں ہوئے ہیں وہ بے مثال ہیں، ہمیں تاریخ میں یاد نہیں کہ مشاہدہ کیا ہو یا پڑھا ہو کہ دو سال سے کم عرصے میں تقریباً بیس ہزار بچے فوجی تنازع میں مارے گئے ہوں، یہ کوئی مذاق نہیں، عالم اسلام کو اس پر غور کرنا چاہیے اور اسے سمجھنا چاہیے، فلسطینی عوام کے دکھ کو محسوس کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو جوابدہ سمجھنا چاہیے۔ 

عالم اسلام کو متحد ہونا چاہئے، وہ کر سکتے ہیں، جنگ اور عسکری اقدام کی بھی ضرورت نہیں، بس اسلامی ریاستوں کے درمیان اتحاد، اتفاق اور اسی طرح ہمدردی اور ایک آواز بننے کی ضرورت ہے، دوسرے اپنا رویہ خود بخود تبدیل کریں گے۔

News ID 1931523

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha