مشترکہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں مذاکرات کو طول دینے کی اجازت نہیں دیں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل در آمد کے سلسلے میں ویانا میں ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کو طول دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو میں مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل در آمد کے سلسلے میں ویانا میں ہونے والے مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کو طول دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ خطیب زادہ نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کے کمیشن کا اجلاس جمعہ کو دوبارہ منعقد ہوگا۔

خطیب زادہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر مبنی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ  قیدیوں کی رہائی کے مسئلہ پر ہمیشہ توجہ مرکوز رہی ہے لیکن اس سلسلے میں نشر ہونے والی خبـروں کی تائید نہیں کرسکتے۔ انھوں نے امریکہ میں ایران کے منجمد سات ارب ڈآلر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تمام اموال کو ایک جگہ آزاد کرنے کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔

خطیب زادہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے متعلق سعودی عرب کے ولیعہد کے لب و لہجہ میں تبدیلی سے دونوں ممالک میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملےگی اور ایران نے ہمیشہ علاقائي ممالک کے ساتھ مسائل کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر تاکید کی ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ امریکہ کو مشترکہ ایٹمی م اہدے میں واپس آنے کے لئے ایران کے خلاف تمام پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا اور مشترکہ ایٹمی معاہدے پر من و عن عمل کرنا ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغانتسان کی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر ایران کی قریبی نگاہ ہے  اور ہم افغانستان میں پائدار امن و صلح کے خواہاں ہیں ،ہمارا افغان حکومت او ردیگر گروہوں کے ساتھ قریبی رابطہ ہے۔ انھوں نے افغانستان کے متعلق استنبول اجلاس میں شرکت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ بر وقت کیا جائےگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یمن کی صورتحال پر سخت تشوکش کا اظءار کرتے ہوئے کہا کہ یمنی مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس کے باوجود جارح ممالک کے خلاف یمنی عوام کی استقامت کا سلسلہ جاری ہے۔

News Code 1906361

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 6 =