ایران میں مقیم بھارتیوں کا بھارتی وزیر خارجہ کے نام خط/ نسل پرستانہ قوانین واپس لینے کا مطالبہ

اسلامی جمہوریہ ایران میں مقیم بھارتیوں نے بھارت میں رونما ہونے والے حالیہ حوادث کے بارے میں تہران کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کے نام میں خط میں مشترکہ بیٹھک اور اجلاس کا مطالبہ کیا ہے اور نسل پرستی پر مبنی جدید قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں مقیم بھارتی شہریوں نے بھارت میں رونما ہونے والے حالیہ حوادث کے بارے میں  تہران کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے نام میں خط میں مشترکہ بیٹھک اور اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں مقیم بھارتی تاجروں، مزدوروں ، یونیورسٹی طلباء ، حوزہ،علمیہ قم کے علماء اور طلاب نے ہندوستان میں رونما ہونے والے حالیہ حوادث کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہندوستانی وزير خارجہ کو اپنی تشویش سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایران میں مقیم بھارتی شہریوں نے بھارتی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ کچھ وقت بھارتی شہریوں کے ساتھ ملاقات کے لئے نکالیں تاکہ اس میں بھارت میں رونما ہونے والے حالیہ افسوس ناک  واقعات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ ایران میں مقیم بھارتی شہریوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے بھارت کے نئے قوانین " این آر سی اور اے سی سی " پربھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نسل پرستی پر مبنی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی شہریوں نے اپنے خط میں دہلی کی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر سکیورٹی فورسز کے حملے اور طلباء کو تشدد کا نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے علمی درسگاہوں کے تقدس کو بحال رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران میں بھارتی شہریوں نے پر امن مظاہروں میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور پولیس کی طرف سے پرامن مظاہرین پر طاقت کے بے جا استعمال کی مذمت کرتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر 22 اور 23 دسمبر کو تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایران اور بھارت کے انیسويں مشترکہ کمیشن کے اجلاس ميں شرکت کریں گے۔

News Code 1896395

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =