سعودی عرب اور امارات کا ایران کے ساتھ مخفیانہ رابطہ

اسرائیل سے متعلق ویبگاہ دبکا نے دعوی کیا ہے کہ خلیج فارس میں کشتیوں کی سکیورٹی اور سلامتی کے سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ خفیہ رابطہ برقرار کیا ہے۔

مہرخبررساں ایجنسی نے النشرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل سے متعلق ویبگاہ دبکا نے دعوی کیا ہے کہ خلیج فارس میں کشتیوں کی سکیورٹی اور سلامتی کے سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ خفیہ رابطہ برقرار کیا ہے۔ اسرائیلی ویبگاہ کے مطابق سعودی عرب اور امارات اس نتیجے تک پہنچ چکےہیں کہ ایران کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اہداف  اور سعودی عرب و امارات کے اہداف میں فرق ہے ۔ اسرائیلی ویبگاہ نے حال ہی میں امارات کے ایک وفد کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اماراتی وفد نے دورہ تہران کے دوران خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تیل بردار جہازوں کی سکیورٹی کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ اسرائیلی ویبگاہ کے مطابق امارات نے اپنے بعض فوجیوں کو یمن سے نکال لیا ہے اور اس نے بعض جزائر کو بھی حوثی مجاہدین سے وابستہ سکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔دبکا کے مطابق امارات کے ایک اہلکار نے نام فاش نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی تلاش و کوشش کررہا ہے تو پھر تیل بردار جہازوں کی سکیورٹی کے لئےامریکی اتحاد میں شامل ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان ایران کے ساتھ گفتگو کا دروازہ کھولنے کی تلاش و کوشش کررہے ہیں۔

News Code 1892673

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 0 =