روس اور ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکہ پر شدید تنقید

اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے  روسیا الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے جوہری توانائی ایجنسی کے اجلاس میں امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی درخواست پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)  کا آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں خصوصی اجلاس ہوا جس میں مسئلہ ایران پر غور کیا گیا۔ایرانی سفیر کاظم غریب آبادی نے اجلاس میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو معاشی دہشتگردی کا سامنا ہے، امریکہ غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کو خود مختار ریاستوں کیخلاف دباؤ کیلیے استعمال کررہا ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہوجانا چاہیے، جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی اقدامات امریکی غیر قانونی رویے کا نتیجہ ہیں۔روسی سفیر میخائل اولیانوف نے بھی واشنگٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ  جوہری معاہدے کے معاملے پر عملاً تنہا ہوگیا ہے، اس کی جانب سے جوہری ادارے کا اجلاس بلانا عجیب ہے، کیونکہ ٹرمپ نے جوہری معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا، اجلاس بلانے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے ہی ہاتھوں عالمی سطح پر تنہا ہوگيا اور اسے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے اجلاس تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وسوی نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے حقوقی استحکام اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فعال سفارتکاری  نیز سیاسی اور اخلاقی کوششوں کی بنا پر  امریکہ کو ایٹمی معاہدے سے خارج ہونا مہنگا پڑ گیا ہے۔

News Code 1892065

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 7 =