جاپان کے وزير اعظم کے دورہ ایران کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن نے کہا ہے کہ جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے کے دورہ ایران کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی نہیں بلکہ اصلی مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن علاء الدین بروجردی  نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے کے دورہ ایران کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی نہیں بلکہ اصلی مقصد دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران اور جاپان کے باہمی تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ اس بات کا امکان ظاہر کررہے ہیں کہ جاپان کے وزیر اعظم امریکہ اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے سفر کررہے ہیں جبکہ ایسی خبریں حقیقت کے خلاف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے بارے میں بحث و گفتگو مذاکرات کے دوران انجام پذير ہوگی لیکن جاپانی وزير اعظم کے دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی نہیں ہے۔ بروجردی نے اسرائیلی وزير اعظم  نیتن یاہو کے جاپانی وزير اعظم کو دورہ ایران سے قبل ٹیلیفون کے بارے میں مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزير اعظم سیاسی لحاظ سے ایک آوارہ شخص ہے جوایران کے خلاف دباؤ کے سلسلے میں  ادھر ادھر گھومتا رہتا ہے اس نے جاپانی وزير اعظم کو بھی دورہ ایران سے قبل ٹیلیفون کرکے اس سفر پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے البتہ جاپان ایک مستقل ملک ہے جس کی پالیسیاں ، اسرائیلی وزير اعظم کے ایک ٹیلیفون سے تبدیل نہیں ہوتی ہیں۔

News Code 1891239

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 2 =