فرانسیسی حکومت نے مظاہرین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

فرانس میں پُر تشدد مظاہروں نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا۔

مہر خبررساں فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرانس میں پُر تشدد مظاہروں نے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کرنے پر مجبور کر دیا۔اطلاعات کے مطابق فرانس کے وزیراعظم ایڈوارڈ فلپس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو 6 ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کو قائل کیے بغیر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔فرانسیسی صدر میکرون کی ہدایت پر وزیراعظم فلپس نے بیرون ملک دورہ منسوخ کر کے مظاہرین کے رہنماؤں بینجمن کووچی اور جیکولین موریو سے ملاقات کی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو معطل کردیا۔

فرانس میں اُس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے گیسولین اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا، ان قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری سے ہونا تھا، فرانس میں زیادہ تر ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے عوامی احتجاج نے پُر تشدد مظاہروں کی شکل اختیار کرلی، پیرس کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں، دو ہفتے سے جاری ہنگامہ آرائی میں 3 افراد ہلاک اور 400  سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔مشتعل مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا جب کہ چند مظاہرین نے پارلیمنٹ میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی۔ جس پر 500 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

News Code 1886183

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 4 =