مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انڈونیشیا میں دو چہروں والے بچے کی پیدائش ہوئی جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق یہ بچہ انڈونیشیا کے ایک شہر باٹم میں پیدا ہوا ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ پیوست جڑواں (کنجوئنڈ ٹوئنز) کی ایک مثال ہے جس میں دو ماہ کے گیلانگ اندیکا کے ساتھ دوسرے جڑواں کا جسم پوری طرح نہ بن سکا اور یوں ایک سر پر ایک کی بجائے دو چہرے بن گئے۔
تاہم اس کیفیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا بچہ مکمل طور پر نمو نہیں ہوسکا اور اس کا سر اور دماغ ایک بچے کے جسم کا حصہ بن گیا ہے۔ اس لحاظ سے گیلانگ کے دوچہرے اور دو دماغ ہیں۔ اس کیفیت سے بچے کے دماغ میں مائع بھررہا ہے جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ کیفیت بچے کے والدین کے لیے بے بسی کی وجہ بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ اس کا علاج کرانے سے قاصر ہیں۔
آپ کا تبصرہ