سعودی عرب میں 2012 میں پھیلنے والے وائرس کا خطرہ اب بھی موجود

عالمی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ 2012 میں سعودی عرب میں پھیلنے والے وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے اس لیے رواں برس عازمین حج مہلک وائرس " مرس " سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط کریں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ 2012 میں سعودی عرب میں پھیلنے والے وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے اس لیے رواں برس عازمین حج مہلک وائرس  " مرس " سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط کریں۔ مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم یا مرس کا ظہور اگرچہ سعودی عرب سے ہوا تھا لیکن اب یہ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اور آخری مرتبہ اس کی شدت جنوبی کوریا میں دیکھی گئی تھی۔ حکام کے مطابق دنیا بھر میں اس کے 1500 کیس رپورٹ ہوئے اور 500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ان میں سے 75 فیصد اموات سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں ہوئی ہیں جب کہ جنوبی کوریا میں اس کے 185 کیس رونما ہوئے اور 36 اموات ہوئی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے  کہ حج کے دوران اس کی وبا ایک بار پھر پھوٹ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں موجود عازمین اس وائرس کو اپنے اپنے ملک میں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں اس لیے وائرس سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی جائے جب کہ کوریا میں یہ وائرس " مرس "  ایک نئے روپ کے ساتھ سامنے آیا ہے اور بڑے پیمانے پر پھیلنے کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔

اونٹوں سے خبردارڈبلیو ایچ او کے مطابق اگر حج کے موقع پر کسی کو فلو کی علامات ہوں تو اس کے قریب نہ جایا جائے اور فوری طور ان علامات کو رپورٹ کریں۔ اونٹوں کے پاس جانے سے گریز کریں کیونکہ اب تک اس وائرس کا سب سے بڑا محور یہی جانور دیکھا گیا ہے جب کہ یہ مرض ایک یا دو ہفتوں تک خاموش رہتا ہے اور اس کے بعد علامات واضح ہوتی ہیں جن میں فلو اور نزلے کی علامات قابلِ ذکر ہیں۔

ذیابیطس کے مریض، پھیپھڑوں کے مریض اور کمزور جسمانی دفاعی نظام کے حامل افراد خاص طور پر احتیاط کریں کیونکہ " مرس "  ان پر زیادہ حملہ آور ہوسکتا ہے جب کہ احتیاط کے طور پر سفر سے قبل ہی اپنا مکمل طبی معائنہ کرائیں۔

News Code 1858047

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha