مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خود کش بم حملے میں اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکتالیس تک پہنچ گئی ہے ۔اس حملے میں ڈھائی سو کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے متعلقہ حکام کو اس واقعہ کی فوری تحقیقات کرنے اور 12 گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاحال کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد تئیس لاشیں اور ایک سو پانچ زخمیوں کو پمز لایا گیا۔ جن افراد کی لاشیں پمز لائی گئیں ان میں ایک امریکی شہری اور ایف سی کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی چار جرمن اور ایک سعودی شہری ہیں۔ پمز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان زخمیوں میں سے تیس کی حالت نازک ہے۔
پولی کلینک اسلام آباد میں پانچ مقامی باشندوں کی لاشیں اور ایک سو گیارہ زخمیوں کو لایا گیا۔ تاہم اس وقت وہاں زخمیوں کی تعداد انہتر ہے جن میں جرمنی، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے تین باشندے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کل رات جب یہ دھماکہ ہوا اس وقت افطاری کا وقت تھا اور دھماکے کے وقت تقریباً 300 کے قریب افراد ہوٹل میں افطاری کر رہے تھے۔
آپ کا تبصرہ