مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ وزیر دفاع کے لیے نامزد امیدوار مہرداد اخلاقی کے منصوبے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی منظوری، مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کی حمایت اور مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں۔ صدر کے اعتماد کے بعد اخلاقی کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ مہرداد اخلاقی ایران کی دفاعی صنعت کے نمایاں ماہرین میں شمار ہوتے ہیں اور وہ صنعتی پیداوار، بالخصوص میزائلوں، ڈرونز اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کے شعبوں میں ترقی کی رفتار برقرار رکھنے اور اسے مزید تیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنگ کے تقاضوں اور حالات کے پیش نظر ضروری تھا کہ وزیر دفاع ایسا شخص ہو جو دفاعی صنعت کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتا ہو۔ انہوں نے شہید نصیرزادہ اور شہید شمخانی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریباً 30 سال قبل متعدد اسٹریٹجک صنعتوں کی بنیاد رکھی تھی۔ شہید شمخانی نے وزیر دفاع کی حیثیت سے تقریباً 27 سے 28 سال پہلے میزائلوں سمیت مختلف شعبوں میں اہم اقدامات کیے، جنہیں بعد کے وزرائے دفاع نے آگے بڑھایا۔
ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کو میدان جنگ میں شکست کے بعد ایرانی اسلحے کی برآمدات کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ پہلی ترجیح مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنا ہے اور اضافی پیداوار برآمد کی جائے گی۔
بریگیڈیئر جنرل طلائی نیک نے مزید کہا کہ مسلح افواج کے پاس ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے اور داخلی سلامتی کے دفاع کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔ ان کے بقول، دشمن کو اب پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
بریگیڈیئر جنرل طلائی نیک نے کہا کہ رمضان جنگ کے دوران جدت اور غیر متناسب دفاعی حکمت عملی کے ذریعے دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شکست دی گئی۔ ان کے مطابق، دشمن کی معاونت کرنے والے نیٹ ورک میں دنیا کی اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی رکھنے والی سیکڑوں کمپنیاں شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ عزم اور قوت ارادی کے ساتھ 9 ہزار سے زائد نالج بیسڈ کمپنیوں کا نیٹ ورک بھی میدان میں آیا۔
وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق، نجی شعبے کے تعاون سے دوہرے استعمال کے 50 اسٹریٹجک منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں فضائی صنعت سے لے کر ریلوے اور صنعتی کارخانوں کے لیے ڈیزل انجنوں کی تیاری تک کے شعبے شامل ہیں۔
جنرل طلائی نیک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران اسلحے کی پیداوار ایک دن کے لیے بھی نہیں رکی، بلکہ اسلحے کی پیداوار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں ڈھائی گنا بڑھ گئی۔ ایران نے پہلے ہی پیداواری مراکز کے لیے محفوظ متبادل مقامات کا انتظام کر رکھا تھا، جس کے باعث مسلح افواج کے لیے سازوسامان کی فراہمی اور اسلحے کی تیاری ایک دن کے لیے بھی معطل نہیں ہوئی۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ دفاعی صنعت میں خود انحصاری اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کی پیداوار کو محفوظ علاقوں میں قائم کرنے کے باعث ملک کی دفاعی صلاحیت دشمن کے حملوں سے محفوظ رہی۔ اس کے برعکس، کثیر القومی کمپنیوں اور غیر ملکی سپلائی چین پر انحصار کے باعث دشمن کو بعض ہتھیاروں اور گولہ بارود کی قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دشمن ایران کی رفتار سے فوجی سازوسامان تیار کرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ