مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک امریکہ کے کم از کم 81 جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ ان نقصانات کی مالیت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران نقصان اٹھانے والے فضائی بیڑے میں امریکہ کے جدید ترین جنگی طیارے بھی شامل ہیں جن میں ایک ایف-35 اے لائٹننگ 2 اور 12 ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کو ایف-15 ای کے تین جنگی طیارے کویت کی فضائی حدود میں اپنے ہی فوجی دستوں کی فائرنگ کے نتیجے میں گر کر تباہ ہوئے، جبکہ ایک اور طیارہ اگلے ماہ ایران کے اوپر کارروائی کے دوران تباہ ہوا۔
ایف-15 ای کے مزید آٹھ طیارے 9 اور 10 ستمبر کو اردن کے موفق السلطي فضائی اڈے پر ایرانی فضائی حملوں کے دوران متاثر ہوئے۔ ان متاثرہ طیاروں کو بعد میں مرمت کرکے دوبارہ آپریشنل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کم از کم 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرون بھی ضائع ہوئے ہیں۔ ہر ریپر ڈرون کی مالیت کا تخمینہ 30 سے 50 ملین ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔
ن ڈرونز کے نقصان کے نتیجے میں امریکی بیڑے میں موجود ریپر ڈرونز کی تعداد کم ہو کر 135 رہ گئی۔ امریکی فضائیہ کے ایک جنرل نے مئی میں امریکی سینیٹ میں اس بارے میں آگاہ کیا تھا۔ امریکہ کے پاس کم از کم 189 آپریشنل ریپر ڈرون ہونے چاہئیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں 19 مارچ کو ایرانی حملے کے دوران پانچویں نسل کے ایک ایف-35 اے جنگی طیارے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس طیارے کی مالیت 92 ملین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 270 ملین ڈالر مالیت کا ایک ای-3 سینٹری ابتدائی انتباہ اور نگرانی کا طیارہ بھی امریکی نقصانات میں شامل ہے۔ یہ طیارہ بوئنگ 707 مسافر طیارے کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا اور 2015 میں امریکی فضائیہ کے پاس اس نوعیت کے 32 طیارے موجود تھے۔
امریکہ نے اپریل میں ایک اے-10 تھنڈربولٹ 2 حملہ آور طیارہ بھی کھو دیا، جبکہ اسی نوعیت کا ایک اور طیارہ ستمبر میں اردن پر ہونے والے حملے کے دوران متاثر ہوا۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں امریکی فضائی نقصانات کی فہرست درج ذیل ہے:
12 ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیارے
1 ایف-35 اے لائٹننگ جنگی طیارہ
2 اے-10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارے
7 کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے
1 ای-3 سینٹری ابتدائی انتباہ اور کنٹرول طیارہ
2 ایم سی-130 جے کمانڈو خصوصی آپریشن طیارے
1 ایچ ایچ-60 ڈبلیو جولی گرین ہیلی کاپٹر
45 ایم کیو-9 ریپر ڈرون
1 ایم کیو-4 سی ٹریٹن ڈرون
3 ایم کیو-1 ڈرون
1 اے ایچ-64 اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر
4 اے ایچ-6 لٹل برڈ ہلکے جنگی ہیلی کاپٹر
1 ایم ایچ-60 سی ہاک ہیلی کاپٹر
کانگریشنل ریسرچ سروس نے واضح کیا ہے کہ 81 طیاروں کا یہ عدد ان تمام طیاروں اور دیگر فضائی آلات کی مکمل تباہی کا مطلب نہیں ہے، کیونکہ فہرست میں تباہ ہونے والے اور نقصان پہنچنے والے دونوں طرح کے طیارے شامل ہیں۔ بعض متاثرہ طیارے مرمت کے بعد دوبارہ سروس میں شامل ہوچکے ہیں۔
اس ادارے کے مطابق خفیہ رکھی گئی معلومات، جاری فوجی کارروائیوں اور بعض واقعات کی ذمہ داری واضح نہ ہونے کے باعث یہ اعداد و شمار مستقبل میں تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔
امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے ستمبر 2026 کے تخمینے کے مطابق، یکم اگست تک امریکہ کے تباہ یا ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان کی جگہ نئے آلات حاصل کرنے کی لاگت 1.9 سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔ حتمی لاگت کا انحصار امریکی محکمہ دفاع کے جانب سے آلات کی تبدیلی کے طریقہ کار پر ہوگا۔
کانگریشنل ریسرچ سروس نے یہ رپورٹ میڈیا رپورٹس، امریکی محکمہ دفاع اور سینٹرل کمانڈ کے بیانات اور امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
آپ کا تبصرہ