مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک-پروفیسر تنویر حیدر نقوی: کچھ واقعات تاریخ کے صفحات پر رقم نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے مزاج کو بدل دیتے ہیں۔ کچھ انقلاب صرف ایک ملک کی حکومت تبدیل نہیں کرتے، وہ انسان کے تصورِ آزادی، مزاحمت اور حاکمیت کو ایک نئی زبان عطا کرتے ہیں۔ 1979ء کا انقلاب اسلامی ایران بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔
ایران میں شاہِ ایران کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ محض تہران کے اقتدار کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس انقلاب نے عالمِ اسلام اور تیسری دنیا کی سیاست میں ایک نیا سوال اٹھایا۔ کیا ایک قوم بیرونی طاقتوں کے سیاسی و عسکری دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے؟ نظریات جغرافیائی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ پاسپورٹ نہیں مانگتے، ویزا نہیں لیتے، سرحدی چوکیوں پر نہیں رکتے۔ وہ ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہیں اور اگر کوئی نظریہ عوام کے دل میں جگہ بنا لے تو پھر تہران سے بیروت، بغداد، دمشق، فلسطین اور صنعا تک اس کے اثرات کے راستے نکل سکتے ہیں۔ یہی اس داستان کا عنوان ہے: ”تہران سے صنعا تک“ قرآن کہتا ہے: ” وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ “ ’’اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں وارث بنائیں۔‘‘(القصص: 5)یہ آیت کسی مخصوص ملک، نسل یا خطے کی بات نہیں کرتی۔ یہ مستضعف اور مستکبر کے درمیان ایک اخلاقی کشمکش کا تصور پیش کرتی ہے۔ امام خمینی نے اسی تصور کو انقلاب کے سیاسی بیانیے میں ایک مرکزی مقام دیا۔ ان کی نظر میں انقلاب کا مقصد صرف شاہی نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ ظلم، استکبار اور بیرونی تسلط کے خلاف ایک وسیع تر جدوجہد تھا۔ یہاں سے ایک نیا سیاسی تصور سامنے آیا: مزاحمت محض فوجی حکمتِ عملی نہیں، ایک فکری شناخت بھی ہے۔
انقلاب اسلامی ایران کے بعد تہران نے فلسطین کے مسئلے کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکز میں رکھا۔ انقلاب کے چند ہی دن بعد یاسر عرفات تہران پہنچے۔ سابق اسرائیلی سفارتی مشن کی عمارت فلسطینی تنظیم کے حوالے کی گئی۔ عرفات نے ایرانی انقلاب کو فلسطینی جدوجہد کے لیے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا۔ اور وہ تاریخی جملہ بھی اسی موقع سے وابستہ ہے:’’Today Iran, tomorrow Palestine‘‘ آج ایران، کل فلسطین۔ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا، یہ اس زمانے کے فلسطینی ذہن میں ایرانی انقلاب کے معنی کی عکاسی کرتا تھا۔ تہران نے فلسطین کو صرف ایک خارجہ پالیسی نہیں بنایا۔ انقلاب سے پہلے شاہِ ایران کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔ انقلاب کے بعد صورتِ حال یکسر بدل گئی۔
یہ تبدیلی علامتی بھی تھی اور سیاسی بھی۔ فلسطینی کاز ایران کے انقلابی بیانیے کا مستقل حصہ بن گیا۔ اسی ماحول میں بعد کے عشروں میں حزب اللہ، فلسطینی اسلامی تحریکوں، عراقی مزاحمتی گروہوں اور بالآخر ”انصار اللہ“ جیسے مختلف گروہوں کے ساتھ ایران کے تعلقات نے ایک وسیع تر علاقائی نیٹ ورک کی شکل اختیار کی، جسے آج عموماً ”Axis of Resistance“ یا ”محورِ مقاومت“ کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تمام گروہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان کے مذہبی پس منظر، مقامی مفادات، سیاسی مقاصد اور تنظیمی ڈھانچے مختلف ہیں۔ لہٰذا ’’محورِ مقاومت‘‘ کو ایک واحد فوجی تنظیم سمجھنا درست نہیں۔ یہ زیادہ درست طور پر مختلف ریاستی اور غیر ریاستی قوتوں کا ایک علاقائی نیٹ ورک ہے جو مختلف درجات میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے علاقائی اتحادیوں کی بالادستی کے خلاف کھڑا ہے۔ لبنان اس انقلاب کا پہلا بڑا علاقائی پڑاؤ ہے۔1982ء میں اسرائیلی حملے کے بعد لبنان میں حزب اللہ کا ظہور ہوا۔ ایران نے اس تحریک کی تشکیل، تربیت اور عسکری صلاحیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں حزب اللہ ایک ایسی قوت بن گئی جس نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو لبنان کی سیاست کا مرکزی عنصر بنا دیا۔ یوں تہران کی فکری دنیا سے ایک نیا جغرافیہ وجود میں آتا گیا۔ تہران سے بیروت پھر عراق، شام اور فلسطین کے مختلف میدان اس وسیع تر علاقائی کشمکش میں شامل ہوتے گئے۔ مگر اس پورے سفر میں ایک سوال مسلسل موجود رہا: کیا مزاحمت محض تہران کی پیدا کردہ ہے یا تہران نے پہلے سے موجود مزاحمتی تحریکوں کو ایک مشترکہ نظریاتی اور تزویراتی فریم فراہم کیا؟ شاید حقیقت دونوں کے درمیان کہیں ہے۔ پھر نقشے پر یمن نمودار ہوا۔ یمن کی داستان باقی تمام میدانوں سے مختلف ہے۔ انصار اللہ کی جڑیں یمن کی اپنی زیدی مذہبی و سیاسی روایت میں ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں زیدی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھرنے والی یہ قوت رفتہ رفتہ سیاسی تحریک بنی اور پھر مسلح جدوجہد میں داخل ہوئی۔ 2004ء سے اس کا یمنی حکومت کے ساتھ مسلح تنازع جاری رہا۔ یہاں ایران کا کردار بعد میں نمایاں ہوا۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق ایران نے 2000ء کی دہائی کے اواخر سے حوثیوں کے ساتھ تعاون بڑھایا۔ 2014ء میں صنعا پر قبضے کے بعد یہ تعلق مزید گہرا ہوا، جبکہ بعد کے برسوں میں اسلحے، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت ایرانی مدد کے شواہد سامنے آتے رہے۔ لیکن ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: انصار اللہ صرف ایران کی تخلیق نہیں۔ خود اس تحریک کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایران سے تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات کو مسترد کیا کہ تحریک تہران کے احکامات پر چلتی ہے۔ بعض غیر جانب دار مطالعات بھی اسے ایک مقامی تحریک قرار دیتے ہیں جس کے ایران کے ساتھ گہرے نظریاتی اور تزویراتی تعلقات ضرور ہیں، مگر اس کی اپنی مقامی ترجیحات اور فیصلہ سازی بھی موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’تہران سے صنعا تک‘‘ کی داستان دلچسپ ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہاں انقلاب نے یمن کو جنم نہیں دیا بلکہ یمن کی اپنی مزاحمتی روایت نے انقلاب اسلامی کے پیدا کردہ علاقائی بیانیے سے ایک رشتہ قائم کیا۔ 2014ء میں انصار اللہ نے صنعا پر قبضہ کیا اور یمن کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ 2015ء میں سعودی قیادت میں اتحاد نے فوجی مداخلت کی۔
یوں یمن ایک مقامی سیاسی بحران سے نکل کر ایران اور سعودی عرب کی علاقائی رقابت کے بڑے میدان میں تبدیل ہوگیا۔ لیکن صنعا کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہاں انصار اللہ موجود ہے۔ صنعا بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیج عدن کے قریب ایک ایسے جغرافیائی خطے میں واقع ہے جو عالمی تجارت اور توانائی کی سیاست میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی تحریک اب صرف یمن کا مسئلہ نہیں رہی۔ غزہ کی جنگ کے بعد انصار اللہ نے اسرائیل سے وابستہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی عالمی سیاست کا موضوع بن گئی۔ یوں ایک ایسا گروہ جو کبھی عالمی طاقتوں کے نقشے میں نسبتاً حاشیے پر تھا، اچانک عالمی جغرافیائی سیاست کے مرکز میں آ گیا۔
یہاں سے یہ عنوان مکمل ہوتا ہے: تہران سے صنعا تک۔ یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ انقلاب اسلامی بنیادی طور پر شیعہ مذہبی انقلاب تھا، جبکہ حماس اور فلسطینی مزاحمت کی بڑی قوتیں سنی پس منظر رکھتی ہیں، اور انصار اللہ کی اپنی مخصوص زیدی روایت ہے۔ اس کے باوجود ایران نے فلسطینی مزاحمت کے ساتھ تعلق قائم رکھا۔ یہ بات اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ ’’محورِ مقاومت‘‘ کو صرف فرقہ وارانہ اتحاد سمجھنا اس کی مکمل تصویر نہیں پیش کرتا۔ اس میں مذہبی شناخت کے ساتھ سیاسی مفادات، سامراج مخالف فکر، فلسطین، اسرائیل مخالف سیاست اور علاقائی طاقت کا توازن بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے حماس اور اسلامی جہاد جیسے فلسطینی گروہوں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کیے، حالانکہ وہ ایرانی اثناعشری مذہبی روایت سے تعلق نہیں رکھتے۔ یاسر عرفات کا 1979ء کا تہران کا سفر اس داستان کا پہلا بڑا باب تھا۔ اس وقت عرفات نے ایرانی انقلاب کو فلسطینی جدوجہد کے لیے امید کی ایک نئی علامت سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور فلسطین کی جدوجہد میں مشترک مقاصد ہیں اور انقلاب نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تہران نے فلسطین کو محض عرب دنیا کا مسئلہ نہیں بلکہ انقلاب اور مزاحمت کا عالمی مسئلہ بنا کر پیش کرنا شروع کیا۔ 1999ء میں تہران کے دورے کے موقع پر منڈیلا نے ایرانی انقلاب کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ جنوبی افریقہ کی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کی تاریخی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ ایک معاصر رپورٹ کے مطابق منڈیلا نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ ’’اسلامی انقلاب کا مقروض‘‘ ہے۔ اور 2022ء میں نلسن منڈیلا کے پوتے مانڈلا منڈیلا نے تہران میں ایک تقریر کے دوران 1979ء کے انقلاب کو جدید سامراج کے خلاف بڑی شکست قرار دیا اور کہا کہ ایرانی انقلاب نے ان کے دادا کو امید دی تھی۔ یعنی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی شواہد کی روشنی میں بات کی جائے تو دلیل زیادہ مضبوط ہوتی ہے، نہ کہ کم۔ مزاحمت کی اس پوری داستان میں قرآن کی ایک اور آیت غیر معمولی معنویت رکھتی ہے: ”وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ“ ’’اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے؟‘‘ (النساء: 75) یہ آیت سیاسی نعروں سے کہیں بڑی اخلاقی بنیاد پیش کرتی ہے۔ یہ سوال کرتی ہے: مظلوم کے لیے تم کہاں کھڑے ہو؟ شاید اسی لیے فلسطین کا مسئلہ ایرانی انقلاب کے بیانیے میں مرکزی مقام حاصل کرتا گیا، اور پھر یہی فلسطین لبنان، عراق، شام اور یمن کے مختلف مزاحمتی بیانیوں کے درمیان ایک مشترک حوالہ بن گیا۔ علامہ اقبال نے مشرقی انسان کو غلامی کی زنجیروں سے نکلنے کا خواب دیا تھا:
نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
اقبال کے ہاں ’’مردِ مؤمن‘‘ صرف عبادت گزار انسان نہیں، بلکہ وہ انسان ہے جو ظلم کے سامنے اپنی آزادی، خودی اور عزتِ نفس کی حفاظت کرتا ہے۔ اور فارسی میں مولانا روم کا یہ مصرعہ بھی اس سفر کی معنویت بیان کرتا ہے:
” از محبت تلخها شیرین شود “ محبت سے تلخیاں بھی شیرینی میں بدل جاتی
ہیں۔ لیکن مزاحمت کے سفر کی ایک اور حقیقت ہے: محض جذبہ کافی نہیں ہوتا۔
خیال کو تنظیم چاہیے۔ تنظیم کو قیادت چاہیے۔ قیادت کو عوام چاہیے۔ اور عوامی طاقت کو تاریخ کے بدلتے ہوئے جغرافیے کو سمجھنے کی صلاحیت چاہیے۔ اگر صنعا آج تہران کے قریب دکھائی دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صنعا نے اپنی شناخت تہران کے حوالے کر دی ہے۔بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ درست ہوگا: صنعا نے تہران کے انقلاب سے روشنی حاصل کی ، مگر اپنی جنگ اپنے جغرافیے میں لڑی۔ اور آج؟ آج مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدل چکا ہے۔ وہ قوتیں جو کبھی سمجھتی تھیں کہ خطے کی سیاست صرف دارالحکومتوں، شاہی محلات، فوجی اڈوں اور بڑی طاقتوں کے ذریعے طے ہوگی، انہیں اب غیر ریاستی قوتوں کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
ایران، حزب اللہ، فلسطینی مزاحمت، عراقی گروہ اور انصار اللہ ایک جیسے نہیں، مگر ان کے درمیان ایک مشترک لفظ ضرور موجود ہے: مزاحمت۔ اور یمن نے اس لفظ کو ایک نیا جغرافیہ دیا ہے۔ جب غزہ میں جنگ شروع ہوئی تو انصار اللہ نے اسرائیل سے متعلق بحری اہداف اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی کو اپنی جنگ کا حصہ بنایا۔ اس اقدام نے ثابت کیا کہ ایک مقامی تحریک بھی عالمی تجارت، توانائی اور بحری سلامتی کے حساب کتاب کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج صنعا کو صرف یمن کے نقشے پر تلاش کرنا کافی نہیں۔ صنعا کو تہران، بیروت، بغداد، دمشق، غزہ اور باب المندب کے پورے جغرافیائی ربط میں دیکھنا ہوگا۔
آج جب کوئی تہران سے صنعا تک کا سفر کرتا ہے تو وہ صرف دو شہروں کے درمیان فاصلہ طے نہیں کرتا۔ وہ ایک انقلاب سے ایک مزاحمتی تصور تک کا سفر کرتا ہے۔ اور شاید تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا نظریات واقعی سرحدوں میں قید کیے جا سکتے ہیں؟ تاریخ کا جواب ہے :
نہیں۔ نظریات ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہیں۔ ایک شہر میں جنم لیتے ہیں، دوسرے شہر میں پناہ لیتے ہیں، تیسرے شہر میں تنظیم بنتے ہیں، چوتھے شہر میں مزاحمت اختیار کرتے ہیں اور کبھی کبھی ایک ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے پوری دنیا انہیں دیکھنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ تہران سے صنعا تک کا سفر شاید ابھی مکمل نہیں ہوا۔ کیونکہ نظریات کے سفر کی کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ وہ چلتے رہتے ہیں۔ اور جب تک دنیا میں ظلم اور آزادی، استکبار اور استضعاف، قبضے اور مزاحمت کے درمیان کشمکش موجود ہے، تب تک تاریخ کے کسی نہ کسی گوشے سے ایک آواز ضرور اٹھتی رہے گی:
شہادتوں سے کبھی راہ بر نہیں مرتا
لہو چراغ بنے تو سفر نہیں مرتا
آپ کا تبصرہ