مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے جنوبی لبنان میں علی الطاہر کی پہاڑیوں سے غاصب صیہونی فوج کے محدود انخلا کی اطلاع دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے قلعہ شقیف کی جانب پسپائی اختیار کی ہے، جبکہ جنوبی لبنان کی سرحدی پٹی میں فوجی تعیناتی کے نئے انتظامات پر غور جاری ہے۔
صہیونی حکومت علی الطاہر کے علاقے میں فوجی تعیناتی کے نئے انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے مطابق جنوبی لبنان میں غاصب فوج کی تعیناتی کی حتمی صورتحال طے کرنے کے لیے فوج اور سیاسی حکام کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔
اس دوران صہیونی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ علی الطاہر کی پہاڑیاں اسرائیل کے نام نہاد یلو لائن اور سکیورٹی زون کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے تک اسرائیل اس علاقے سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا اور نہ ہی فوجیوں کو منتقل کرے گا۔
کاٹز نے ان پہاڑیوں پر دوبارہ واپسی کی کسی بھی کوشش کے حوالے سے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج علاقے میں حزب اللہ کی کسی بھی سرگرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور جو بھی اس حدود کے قریب آئے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے لبنان کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لبنانی شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
اگرچہ گزشتہ ماہ امریکی ثالثی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مقصد سے فریم ورک معاہدہ طے پایا، تاہم اس معاہدے کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین نے معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں ابہام اور لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے واضح ٹائم لائن نہ ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
آپ کا تبصرہ