5 ستمبر، 2026، 12:38 PM

نتن یاہو دوبارہ منتخب ہوئے تو اسرائیل 2048ء تک قائم نہیں رہ سکے گا، صہیونی مصنف

نتن یاہو دوبارہ منتخب ہوئے تو اسرائیل 2048ء تک قائم نہیں رہ سکے گا، صہیونی مصنف

صہیونی مصنف دان پری نے اسرائیل کو درپیش اندرونی بحرانوں، جنگوں، سیاسی و معاشی کمزوریوں اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انتخابات میں نتن یاہو جیت گئے تو اسرائیل اپنی قیام کی سوویں سالگرہ یعنی 2048ء تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی مصنف دان پری نے عبرانی زبان کے اخبار معاریو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اسرائیل کو درپیش وجودی خطرات اور اندرونی انتشار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے 2048ء سے پہلے ممکنہ انہدام سے خبردار کیا ہے۔

دان پری اس سے قبل خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے یورپ، افریقہ اور مشرق وسطی کے لیے سابق ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور اسرائیل کے بارے میں متعدد کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ اگر موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اسرائیل ایک ایسے تباہ کن راستے پر گامزن ہو جائے گا جس کے خطرات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔

پری نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی موجودہ صورت حال اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جتنا بہت سے لوگ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق قبضے اور جنگیں اسرائیل کی عالمی تنہائی میں اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ یہ تنہائی معیشت اور سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ دوسری جانب اندرونی سیاسی اور مالی بے قاعدگیاں اسرائیل کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔

صہیونی مصنف نے بحران پر قابو پانے اور اسرائیل کی موجودہ صورت حال کو عارضی طور پر سنبھالنے کے لیے 12 تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

ان تجاویز میں 7 اکتوبر کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیٹی کا قیام، غزہ کے حوالے سے ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرنا، مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی دہشت گردی کا خاتمہ اور سکیورٹی باڑ سے باہر بستیوں کی توسیع روکنا شامل ہے۔

انہوں نے علاقائی حکمت عملی پر نظرثانی، لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات کو ایک اور موقع دینے، ایران کے ساتھ بے مقصد طویل جنگ کے بجائے امریکہ اور اتحادیوں کے تعاون سے طویل مدتی حکمت عملی اختیار کرنے اور مصر و اردن کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔

پری نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، تعلیمی نظام کے حوالے سے ہنگامی حالت نافذ کرنے اور اقتصادی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی لانے پر بھی زور دیا۔

ان کی دیگر تجاویز میں بچوں کے لیے سرکاری مراعات کے نظام میں بتدریج تبدیلی، مذہبی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد سمیت سب کے لیے لازمی فوجی خدمت کا قانون نافذ کرنا، النقب اور الجلیل کو نئے قومی منصوبوں میں تبدیل کرنا اور اقتصادی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ایسے افراد پر وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کی پابندی عائد کی جائے جو سنگین مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملزم ہوں۔ اس حوالے سے انہوں نے براہ راست بنیامین نیتن یاہو کا حوالہ دیا۔

دان پری نے آخر میں خبردار کیا کہ اگر مذکورہ اقدامات نہیں کیے گئے تو اس بات کا امکان کم ہے کہ اسرائیل 2048ء میں اپنے قیام کی سوویں سالگرہ تک قائم رہ سکے گا۔

News ID 1941144

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha