مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کھلے عام یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف کیے جانے والے دہشت گرد حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جبکہ روس اپنی سلامتی اور داخلی استحکام کو متاثر کرنے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کا مقابلہ کرے گا۔
روسی خبر رساں ادارے ریانووستی کے مطابق، سرگئی لاوروف نے روس کے شہر ولادی ووستوک میں مشرقی اقتصادی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب روس میں اپنی سفارتی موجودگی کے ذریعے اشتعال انگیز اقدامات کی کوشش کر رہا ہے، تاہم روسی سکیورٹی ادارے ان سرگرمیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روسی پارلیمنٹ، یعنی ریاستی دوما کے انتخابات سے قبل بیرونِ ملک سے روسی معاشرے میں حالات خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لاوروف نے یوکرین میں مغربی ممالک کی جانب سے فوج بھیجنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ایک ایسے نظام کو برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں جسے روس نازی نظریات سے وابستہ سمجھتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کیف کی جانب سے شہری تنصیبات پر حملوں کا مقصد روسی عوام کی معمول کی زندگی میں خلل ڈالنا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ اگر روس یوکرین میں جنگ روکنے کے لیے مغرب کی جانب سے پیش کی جانے والی عارضی جنگ بندی کی تجاویز قبول کر لیتا تو یہ اپنے آباؤ اجداد سے غداری کے مترادف ہوتا، جبکہ روسی عوام ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مغرب کو مسلسل ایک بیرونی دشمن کی ضرورت ہے۔ اگر روس کو دشمن کے طور پر پیش کرنے کا بیانیہ ختم ہو جائے تو یورپی ممالک کے بہت سے سیاست دان اپنے ووٹروں کی حمایت کھو سکتے ہیں۔ یورپ میں نو سامراجی، نوآبادیاتی اور نو نازی سوچ اب بھی موجود ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے چین اور بھارت کے حوالے سے بھی مغربی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغرب بھارت کو چین کے خلاف اپنے منصوبوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور بھارت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور ان کی ترقی کی رفتار ایسی ہے کہ مغربی ممالک کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لاوروف کے مطابق چین اور بھارت روس کے اہم شراکت دار ہیں اور ماسکو دونوں ممالک کے ساتھ جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع منصوبے رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ