مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ نے اس اقدام کو اخراجات میں کمی اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا، تاہم جریدے کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی مؤقف یا ممکنہ فوجی اقدامات میں شامل نہ ہونے کا عنصر بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔
اٹلانٹک نے لکھا کہ جنوبی کوریا امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی سے خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے چین، روس اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں غیر متوقع رویہ اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی کوریا کی قیادت سے ایران کے معاملے پر تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم سیئول نے اس حوالے سے محتاط مؤقف اپنایا۔
اٹلانٹک نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی استدلال کیا کہ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں دباؤ اور ناراضی کی پالیسی اپناتا ہے تو اس سے بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ