مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کی حمایت یافتہ قوتوں کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف برقرار رہا بلکہ مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا۔
صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ ایزدی نے میڈیا کو ’’شناختی جنگ‘‘ کا اہم محاذ قرار دیا اور کہا کہ صحافی موجودہ دور کی فکری اور ابلاغی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں میں دشمن کے 200 سے زائد طیارے اور دیگر فضائی وسائل مار گرائے گئے۔
ایزدی کے مطابق دنیا کی بڑی فوجی طاقت اور نیٹو کا پشت پناہ نظام ایران کے خلاف میدان میں آیا، لیکن ایرانی نظام نے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود ایک بڑی جنگ کا مقابلہ کیا اور اسے اپنے لیے کامیابی میں تبدیل کیا۔
ایرانی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں ایران کو کمزور کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ اور محاصرے کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں، لیکن ان کے بقول اس دباؤ کے نتیجے میں خود مخالف قوتیں کمزوری اور زوال کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
مصطفیٰ ایزدی نے افغانستان اور عراق میں امریکی فوجی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنی طویل جنگوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے ایران کے خلاف ’’جنگِ شناختی‘‘ میں سوشل میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا اور ایرانی معاشرے میں عوامی شرکت اور ابلاغی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ