مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ یا مقررہ وقت کی پابندی کے تحت اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ قومی مفادات اور حالات کے جائزے کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔
انہوں نے تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمت میں 60 روزہ مدت سے متعلق خبروں کی تردید کی اور کہا کہ اس مفاہمت کے متن میں ایسی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران ایسا ملک نہیں جو کسی بیرونی دباؤ یا ڈیڈ لائن کے تحت اپنی پالیسی مرتب کرے، بلکہ تمام فیصلے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ مفاہمت میں شامل نکات کے حوالے سے عمل درآمد کی صورتحال واضح ہے اور وزارت خارجہ ملکی امور کے انتظام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض قوتوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ آج کے ایران کو ماضی کے ایران جیسا سمجھتی ہیں جس پر اپنی سیاسی خواہشات مسلط کی جا سکتی ہیں۔ حالیہ دو جنگوں میں بھی غلط اندازے لگائے گئے، جن کے نتائج خطے اور دنیا کے لیے سنگین ثابت ہوئے۔ آج کا ایران استقامت اور تجربات سے گزرنے والا ملک ہے جو اپنی خودمختاری، عزت اور آزادی کے دفاع کے لیے مضبوط ارادے رکھتا ہے۔
بقائی نے قطر کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا کہ ایران دوحہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مختلف سفارتی معاملات میں قطر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے چار ایرانی پائلٹوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایران کا سنجیدہ مطالبہ ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی اس معاملے کو وزارت خارجہ نے ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا اور ریڈکراس سمیت متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ان پائلٹوں کی صورتحال واضح نہیں ہوتی، ایران انہیں قیدی تصور کرتا ہے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تمام کوششیں جاری رکھے گا۔
ترجمان نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق پارلیمنٹ کے ممکنہ اقدام پر کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے آئینی مقام کا احترام کرتی ہے۔ وزارت خارجہ اس حوالے سے اپنی ماہرین کی آراء اور نقطہ نظر پیش کرتی رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق پہلے سے قوانین موجود ہیں اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
بحرین کی جانب سے اقوام متحدہ میں ایران پر خودمختاری کے احترام کے حوالے سے اعتراض کے بارے میں بقائی نے کہا کہ ایران تمام علاقائی ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے ماضی کے حقائق کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں، اور خطے میں بعض اقدامات حسن ہمسائیگی کے اصولوں کے مطابق نہیں رہے۔
بقائی نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران اپنی سرزمین کو فریقین میں سے کسی ایک کے خلاف استعمال ہونے دینا بھی سوالات پیدا کرتا ہے اور ایسے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے بارے میں بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بحری آمدورفت کے نقشۂ کار پر اتفاق ہوچکا ہے اور اسے ایک حتمی پیکیج کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل میں تاخیر کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی بار محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک نیا نظام تشکیل دیا جا رہا ہے، دوسرا اس عمل میں متعدد فریق شامل ہیں، جبکہ تیسری اور اہم وجہ بعض مخالف عناصر کی تخریبی کوششیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک اس معاملے کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ کا تبصرہ