17 اگست، 2026، 1:33 PM

بغداد، رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی کتاب ’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ کی رونمائی

بغداد، رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی کتاب ’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ کی رونمائی

سابق عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے کتاب کو مختصر مگر جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے جبکہ تسلط، استعمار اور اقوام پر کنٹرول پر مبنی پرانا عالمی نظام زوال پذیر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی تصنیف ’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ کے عربی ایڈیشن کی بغداد میں ایک خصوصی تقریب کے دوران رونمائی کی گئی۔

یہ تقریب بغداد کے انتصار ہال میں ’’رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی فکر میں نیا عالمی نظام‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔

تقریب سے عراق کے سابق وزیراعظم عادل عبدالمہدی، عراقی پارلیمنٹ کے سینئر رکن ڈاکٹر نور عادل، بغداد میں ایران کے سفیر محمد کاظم آل صادق اور رہبر انقلاب اسلامی کے آثار کی تدوین و اشاعت کے دفتر کے بین الاقوامی امور کے نائب ڈاکٹر محمد اخگری نے خطاب کیا۔

اسلامی سپریم کونسل عراق کے سربراہ شیخ ہمام حمودی نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی زندگی اور افکار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ کتاب بین الاقوامی قارئین کے سامنے رہبر انقلاب کی زندگی اور فکر کو متعارف کرانے کے مقصد سے تین ابواب میں مرتب کی گئی ہے۔

ستمبر میں منعقد ہونے والے 27 ویں بغداد بین الاقوامی کتاب میلے میں ’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ سمیت اسلامی انقلاب پبلیکیشنز کے تحت شائع ہونے والی متعدد نئی کتابیں ناشر کے اسٹال پر قارئین کے لیے دستیاب ہوں گی۔

واضح رہے کہ اس کتاب کی رونمائی کی تقریب اس سے قبل 5 جولائی کو تہران کے قومی عجائب گھر برائے انقلاب اسلامی و دفاع مقدس میں بھی منعقد کی گئی تھی۔

سابق وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے ’’نئے عالمی نظام کی صبح‘‘ کو مختصر، جامع اور مواد کے اعتبار سے بھرپور کتاب قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کتاب میں اسلامی جمہوری ایران کی تاریخ، ولایت فقیہ، قیادت کی شرائط و تقاضوں، مجلس خبرگان اور ایران کے سیاسی و سماجی مسائل کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتاب کے بعض حصوں میں آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی زندگی، ان کے انقلابی پس منظر، علمی سرگرمیوں اور سماجی مقام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جبکہ ان کے اساتذہ، شاگردوں اور ساتھیوں کے علاوہ معاشرے کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق معلومات بھی پیش کی گئی ہیں۔

عادل عبدالمہدی نے کہا کہ کتاب اس تصور کو اجاگر کرتی ہے کہ عوام صرف قیادت کے پیروکار اور تابع نہیں ہوتے بلکہ خود بھی معاشرے کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں اور قیادت بھی عوام سے سیکھتی ہے۔

سابق عراقی وزیراعظم کے مطابق کتاب میں سیاسی اور سماجی تحولات کے جائزے کے ساتھ آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی خاندانی اور ذاتی زندگی، ان کے سادہ اور متواضع طرز زندگی اور ان کے دینی و سیاسی افکار پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔

عادل عبدالمہدی نے کہا کہ آج متعدد شواہد اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ایک نیا عالمی نظام تشکیل پا رہا ہے، جبکہ تسلط، استعمار اور اقوام پر کنٹرول پر مبنی پرانا عالمی نظام اقتصادی، قانونی، اقداری، نظریاتی اور اخلاقی سمیت مختلف شعبوں میں زوال کی جانب بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے سوویت یونین کے انہدام سے متعلق واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے امام خمینی کے سابق سوویت رہنما میخائل گورباچوف کے نام پیغام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس پیغام نے عالمی تبدیلیوں کے بارے میں بانی انقلاب اسلامی کے منفرد اور دوراندیش نقطہ نظر کو واضح کیا تھا۔ بالآخر سوویت یونین کا انہدام ہوا اور یہ واقعہ عالمی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

عادل عبدالمہدی نے مغربی ممالک کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک جمہوریت، انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق جیسے نعروں کو پیش کرتے ہیں، لیکن یہی ممالک غزہ میں ہونے والے جانی نقصانات اور نسل کشی اور خطے میں جاری واقعات کے سامنے خاموش رہتے ہیں یا خود ان میں ملوث ہوتے ہیں۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حالیہ جارحانہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، اسرائیلی حکومت اور بعض یورپی طاقتوں کی شرکت کے باوجود ایرانی عوام اور قیادت کی مزاحمت اور ثابت قدمی نے حالات اور طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا۔

News ID 1940713

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha