مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے انسانی حقوق کے بہانے ایران کے خلاف بیانات جاری کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باعث دوسروں کو نصیحت کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رکھتی۔
تفصیلات کے مطابق یونان کے وزیر خارجہ یگیورگوس گراپتریتیس نے سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراقچی نے ایران کے خلاف امریکہ کی مسلسل غیر قانونی اور جارحانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے راستوں کے تعین کے لیے عمان کے ساتھ جاری دوطرفہ مذاکرات کی تازہ صورتحال بھی بیان کی اور کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ عدم تحفظ امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کے ذمہ دار جارح اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے فریقوں کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔
عراقچی نے انسانی حقوق کے معاملے میں یورپی یونین کے دوہرے اور منافقانہ رویے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے بالخصوص بعض یورپی ممالک کی اسرائیل کے لیے ہمہ گیر حمایت اور فلسطینیوں کی نسل کشی و لبنان اور ایران میں اسرائیلی حکومت کی جنگی جرائم پر مبنی کارروائیوں سے چشم پوشی کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کے خلاف انسانی حقوق کے بہانے مداخلت پسندانہ بیانات کو مسترد کردیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یورپی یونین اپنے طرز عمل کے باعث دوسروں کو انسانی حقوق کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز یا حق نہیں رکھتی۔
دوسری جانب یونان کے وزیر خارجہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی فنی اور ماہرین کی سطح پر معاونت فراہم کرنے کے لیے اپنے ملک کی آمادگی کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران جاری مشاورت کا سلسلہ برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
آپ کا تبصرہ