9 اگست، 2026، 4:45 PM

دباؤ کے باوجود ایران مقاومت کے عہد پر مضبوطی سے قائم ہے، عراقچی

دباؤ کے باوجود ایران مقاومت کے عہد پر مضبوطی سے قائم ہے، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ قومیں جب اپنی آزادی، قومی ارادے اور اجتماعی شناخت کے تحفظ کی جدوجہد سے دستبردار ہوتی ہیں تو صرف سرزمین ہی نہیں بلکہ اپنا مستقبل تشکیل دینے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے اپنے عہد پر مضبوطی سے قائم ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی اس راستے پر ثابت قدم رہے گا۔

عراقچی نے کہا کہ تاریخ بارہا ثابت کرچکی ہے کہ جب قومیں اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے قربانی، استقامت اور جدوجہد کا راستہ چھوڑ دیتی ہیں تو وہ صرف اپنی سرزمین سے محروم نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی شناخت، قومی ارادے اور اپنے مستقبل کی تشکیل کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔ دشمن کے سامنے جھکنے کے بعد عزت و وقار کی بحالی انتہائی دشوار ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی اعتقادی اور تزویراتی فہم کی بنیاد پر ایران تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے اپنے عہد پر قائم ہے اور آئندہ بھی ثابت قدم رہے گا۔

عراقچی نے موجودہ ایران کو ظلم کے طوفان کے مقابل ڈٹی ہوئی قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اپنے زمانے کے سیدالشہداء اور عظیم رہبر آیت اللہ العظمی شہید سید علی حسینی خامنہ ای کے ساتھ کیے گئے عہد پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران ان بے گناہ بہائے گئے خونوں کو فراموش یا نظرانداز نہیں ہونے دے گا۔ نہ ہم بھولیں گے اور نہ معاف کریں گے کیونکہ یہ خون ہر روز حق اور انصاف کی جدوجہد کے درخت کو مزید مضبوط بنائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے عاشورا اور قیام امام حسینؑ کی تاریخی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1400 سال سے زیادہ عرصے میں امام حسینؑ کی تحریک خون خواہی محض ایک جذباتی ردعمل نہیں رہی بلکہ ایک سماجی تحریک اور سیاسی جدوجہد کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کی حق طلبی، عدالت پسندی اور عاشورا کی ظلم ستیزی آج بھی دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہے اور یہ تحریک ایک ایسے خروشان سمندر کی مانند ہے جو کبھی اپنی روانی اور جوش سے محروم نہیں ہوتا۔

عراقچی نے کہا کہ امام حسینؑ کا ’’مثلی لا یبایع مثل یزید‘‘ کا تاریخی اعلان ایک ایسی تحریک کی بنیاد بنا جس نے چودہ صدیوں بعد بھی اپنا اثر برقرار رکھا اور ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ بالآخر خون شمشیر پر غالب آتا ہے۔

انہوں نے عاشورا کو انسان ساز اور روحانی ارتقا کا مکتب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا کی تحریک نے ظلم، تسلط پسندی اور ناانصافی کی جڑوں، اسباب اور عوامل کے خلاف مستقل جدوجہد کا شعور پیدا کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کی جانب سے محرم و عاشورا کے موضوع پر منعقدہ دستاویزی نمائش کے انعقاد میں تعاون کرنے والے محققین، ماہرین، دستاویزات کے محققین اور وزارت خارجہ کے دیگر اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے حضرت اباعبداللہ الحسینؑ، شہدائے کربلا، انقلاب اسلامی کے سیدالشہداء اور حالیہ دو جنگوں کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نمائش کا افتتاح کیا۔

عراقچی نے امید ظاہر کی کہ ’’محرم و عاشورا در اسناد وزارت امور خارجه‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نمائش اور خصوصی نشست ایرانی عوام کے عاشورا کے قیام سے گہرے تعلق کو سمجھنے کے لیے نئی راہیں کھولے گی اور اسلامی اقدار و انسانی کرامت کے تحفظ میں ایرانیوں کی کوششوں کے ایک گوشے کو اجاگر کرے گی۔

News ID 1940608

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha