3 اگست، 2026، 5:33 PM

ایران کا امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید

ایران کا امریکہ سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی بھی ابہام کو دور کرنے کے لیے واضح کر دوں کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت جاری مذاکرات صرف ایران اور عمان کے درمیان ہیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے حوالے سے ایک عارضی اور قابلِ عمل طریقۂ کار طے کرنا ہے۔

بقائی کے مطابق تہران اور مسقط گزشتہ ایک ہفتے سے اس معاملے پر سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی خطے اور دیگر ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کو روکا جا سکے اور ایران کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مذاکرات مکمل طور پر ایران اور عمان کے درمیان ہیں اور ان میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے متعلق معاملات اور اس کی جانب سے ممکنہ وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ بعد میں حالات کے مطابق لیا جائے گا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی جارحیت اور اس کے بعد کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب تک امریکہ کی جانب سے بحری محاصرہ، دشمنانہ اقدامات اور خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

چین کے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث بننے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن سے متعلق امور میں پاکستان بدستور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ قطر معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین ایران کا دوست ملک ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مشترکہ تشویش رکھتا ہے، تاہم اسے نیا ثالث قرار دینا درست نہیں۔

علاقائی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران کسی ملک پر حملہ نہیں کرتا اور اس کی تمام فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہوتی ہیں، جن کا ہدف صرف وہ اڈے ہوتے ہیں جہاں سے ایران کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی علاقائی ملک کے خلاف دشمنی نہیں رکھتا اور تمام ممالک کی خودمختاری کے احترام کا پابند ہے، تاہم خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔

بقائی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے ممالک کو مشترکہ سلامتی کے قیام کے لیے ایک علاقائی سکیورٹی نظام تشکیل دینا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت اور عدم استحکام کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

News ID 1940533

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha