مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبرانی زبان کے اخبار یدیعوت آحارانوت نے صہیونی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر کے فیصلوں کی پیش گوئی نہ کر پانا طویل المدتی طور پر اسرائیلی فوج کی کارکردگی اور تیاریوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی یونٹس طویل عرصے تک مسلسل ہائی الرٹ کی حالت میں نہیں رہ سکتے، جبکہ واشنگٹن کی غیر واضح پالیسیوں کے باعث مستقبل کی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایک سینئر سکیورٹی ذریعے نے کہا کہ اگرچہ ایران اب بھی اسرائیل کی اولین سکیورٹی ترجیحات میں شامل ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کے فیصلوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث فوجی ذمہ داریوں اور وسائل کی تقسیم مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کا طرزِ عمل، جس میں فوجی دباؤ، پسپائی اور مذاکرات جیسے متضاد اقدامات شامل ہیں، ایک بار بار دہرایا جانے والا نمونہ بن چکا ہے جس سے اسرائیلی حکام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
آپ کا تبصرہ