3 اگست، 2026، 7:14 AM

حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز؛ امن کا راستہ یا اسرائیل اور امریکہ کا جال؟

حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجویز؛ امن کا راستہ یا اسرائیل اور امریکہ کا جال؟

قابض اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ امریکہ کے بعد غزہ اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں، خصوصاً حماس، پر دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قابض اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ امریکہ کے بعد غزہ اور فلسطینی مزاحمتی گروہوں، خصوصاً حماس، پر دباؤ میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس دباؤ کا ایک اہم مقصد حماس کو غیر مسلح کرنے کے مطالبے کو آگے بڑھانا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی کوشش ہے کہ حماس کو ایک مسلح مزاحمتی تحریک کے بجائے محض ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ خطے میں اپنے سیاسی و سکیورٹی اہداف کے حصول میں آسانی ہو۔

اس تناظر میں بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے یا غیر مسلح کرنے کا کوئی بھی اقدام فلسطینی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، کیونکہ ماضی کے تجربات کے مطابق اسرائیل کے سامنے پسپائی مزید دباؤ اور نئی شرائط کا سبب بن سکتی ہے۔

اسی مؤقف کے حامیوں کے مطابق غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، محاصرے کے خاتمے اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو کسی بھی آئندہ مذاکرات کے لیے بنیادی شرط ہونا چاہیے۔

ان کا استدلال ہے کہ غیر مسلح ہونے کے معاملے پر بحث صرف اس وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام اور مختلف فلسطینی دھڑے باہمی مشاورت سے اس بارے میں فیصلہ کریں۔

دوسری جانب، حماس کے ناقدین اور بعض بین الاقوامی فریقین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلح گروہوں کا ہتھیار چھوڑنا ضروری ہے۔ کیونکہ حماس کی غیر مسلح ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک اہم اور متنازع موضوع بنا ہوا ہے۔

News ID 1940528

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha