مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، جو عراقی وزیراعظم کے ذریعے تہران پہنچائی گئی تھی۔
المیادین کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم اس دعوے پر ایران اور امریکہ کے سرکاری حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مسئلہ کسی ثالث سے نہیں بلکہ امریکہ کے رویے سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کا غیرمنطقی، حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی اور بالادستی کا رویہ ہی بنیادی مسئلہ ہے، جس کا اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ مضبوطی سے مقابلہ کیا ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ جب تک امریکہ یہ حقیقت تسلیم نہیں کرتا کہ ایران کے عوام اور ان کے قومی مفادات کا احترام ہی واحد راستہ ہے، اس وقت تک پیش رفت کی کوئی بنیاد پیدا نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے پیغامات کے تبادلے کی ضرورت نہیں، بلکہ امریکہ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
آپ کا تبصرہ