مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اسکائی نیوز عربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا ان کا دورہ محض رسمی نہیں بلکہ عراق اور امریکا کے درمیان باہمی مفادات اور احترام پر مبنی تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر میں بین الاقوامی اتحادی افواج داعش کے خلاف اپنی جنگی ذمہ داریاں مکمل کرکے عراق سے مستقل طور پر نکل جائیں گی، جس کے بعد بغداد امریکا کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شراکت داری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
علی الزیدی نے کہا کہ عراق کی ترجیح عسکری تعاون سے آگے بڑھ کر پائیدار اقتصادی تعاون کی جانب جانا اور دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر اقتصادی پل قائم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تیل، بجلی اور مواصلات کی وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ توانائی، ٹیکنالوجی، مواصلات اور ترقیاتی منصوبوں میں معتبر امریکی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی کونسل نے متعدد عالمی کمپنیوں کے ساتھ بڑے تیل منصوبوں سے متعلق اہم فیصلے کیے ہیں، جبکہ مواصلاتی شعبے میں Starlink کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کے ذریعے عراق کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مسلح گروہوں سے متعلق کہا کہ حکومت سے باہر اسلحے کی موجودگی قابل قبول نہیں، اگرچہ دہشت گردی کے خلاف ان گروہوں کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم موجودہ مرحلہ تمام سرگرمیوں کو ریاستی اداروں کے دائرہ کار میں لانے کا متقاضی ہے۔
علی الزیدی نے زور دے کر کہا کہ ایران کے ساتھ عراق کے تعلقات حسن ہمسائیگی، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، جیسے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عراق کسی بھی ملک کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا اور تمام فیصلے "پہلے عراق" کے اصول کے مطابق کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعاون عراق کے قومی مفادات کے لیے ہوگا، نہ کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف۔ ان کے بقول عراق نہ کسی علاقائی محور کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی دشمنی کی سیاست اپنانا چاہتا ہے، بلکہ وہ خطے میں رابطے، استحکام اور امن کا مرکز بننا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے آخر میں کہا کہ بغداد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے ہر قسم کے مذاکرات، بشمول ایران اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت، کا خیرمقدم کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ