25 جون، 2026، 1:36 PM

میناب اسکول حملے کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، ایران کا اقوام متحدہ میں مطالبہ

میناب اسکول حملے کے تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، ایران کا اقوام متحدہ میں مطالبہ

ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں میناب اسکول پر حملے کو ہولناک جنگی جرم قرار دیتے ہوئے تمام ذمہ دار عناصر، منصوبہ سازوں اور کمانڈروں کے مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میناب اسکول پر حملے کو ایک ہولناک جنگی جرم قرار دیا اور اس کے تمام ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور کمانڈروں کے مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق، بچوں اور مسلح تنازعات کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں امیر سعید ایروانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی 2025ء کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جون 2025ء میں ایران کے خلاف اسرائیلی حکومت کی 12 روزہ جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے، خصوصاً بچوں پر اس کے تباہ کن اثرات، رپورٹ میں مناسب انداز میں منعکس نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جارحیت کے دوران 47 ایرانی بچے شہید ہوئے۔

ایروانی نے کہا کہ ایرانی بچوں کے خلاف کیے گئے سنگین جنگی جرائم کا ذکر کیے بغیر بچوں کے تحفظ پر گفتگو نامکمل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ حملوں کے دوران جان بوجھ کر شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں متعدد اسکول اور تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان حملوں میں 220 بچے شہید ہوئے جن میں 17 ایسے بچے بھی شامل تھے جن کی عمر پانچ سال سے کم تھی۔

ایرانی مندوب کے مطابق سب سے المناک واقعہ صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب کے ایک ابتدائی اسکول میں پیش آیا، جہاں تدریسی اوقات کے دوران 264 طلبہ کلاسوں میں موجود تھے۔ اسکول کو دو مرتبہ میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 7 سے 12 سال کی عمر کے 168 طالب علم شہید ہوئے جبکہ اساتذہ اور بعض والدین بھی جاں بحق ہوئے۔ حملے میں 96 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور کئی متاثرین گھنٹوں ملبے تلے دبے رہے۔

امیر سعید ایروانی نے کہا کہ یہ بچے ایک محفوظ تعلیمی ماحول میں اپنے بنیادی حقِ تعلیم سے استفادہ کر رہے تھے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت مکمل تحفظ کے مستحق تھے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ میناب اسکول پر حملہ سلامتی کونسل کے فریم ورک کے تحت بچوں کے خلاف ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہے، جس میں بچوں کا قتل و زخمی کرنا اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ایروانی نے کہا کہ ایران ان جنگی جرائم کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ میناب کے بچوں کی یاد انصاف، جوابدہی اور عملی اقدامات کی متقاضی ہے، جبکہ بچوں کے تحفظ کے معاملے میں دوہرا معیار قابل قبول نہیں اور بین الاقوامی قوانین کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔

News ID 1939970

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha