23 جون، 2026، 9:16 AM

آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار پر اتفاق، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے پیش رفت

آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار پر اتفاق، پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے پیش رفت

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ چار ملکی فنی مذاکرات کے اختتام پر آئندہ مذاکرات کے انتظامات، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت، تیل کی فروخت کے عمومی لائسنس اور 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق اہم اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نائب وزیر خارجہ اور فنی مذاکراتی وفد کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ چار ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ہیں اور آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار پر اتفاق رائے قائم ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے اعلی سطحی کمیٹی کا اجلاس اتوار کو منعقد ہوا، جو پیر کی علی الصبح تک جاری رہا۔ اس کے بعد مفاہمتی یادداشت اور اعلی سطحی اجلاس کے اختتامی بیان پر عمل درآمد کے طریقہ کار کے تعین کے لیے فنی مذاکرات ہوئے، جن میں ضروری تفاہمات حاصل کر لیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ طے پانے والے اتفاق کے مطابق آئندہ مذاکرات اعلی سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے، جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ، امریکہ کے نائب صدر، جبکہ پاکستان اور قطر کے وزرائے اعظم شریک ہوں گے۔

غریب آبادی کے مطابق، پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیر نو و اقتصادی ترقی اور نگرانی و نفاذ کے لیے چار خصوصی ورکنگ گروپس بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تفاہمات اور گزشتہ شب کے مذاکرات کے اختتامی بیان کے مطابق، مفاہمتی یادداشت میں شامل ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایک رابطہ مرکز اور لبنان میں کشیدگی کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ یونٹ قائم کیا جائے گا، جس میں پاکستان اور قطر بھی شامل ہوں گے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ چاروں ممالک کے فنی وفود کے سربراہان ورکنگ گروپس اور مذکورہ دونوں یونٹس کی سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کریں گے اور اپنی رپورٹس اعلیٰ سطحی کمیٹی کو پیش کریں گے۔

غریب آبادی نے کہا کہ فنی مذاکرات میں ایران کے تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات، تیل سے متعلق مصنوعات اور ان سے وابستہ تمام خدمات کی فروخت کے لیے عمومی لائسنس کے اجرا اور منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق معاملات پر بھی ضروری پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی تناظر میں امریکی فریق نے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت کے لیے عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے، جو امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 12 ارب ڈالر، یعنی دو الگ الگ چھ ارب ڈالر کی رقوم پر مشتمل منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق دستخط شدہ تفاہم نامہ بھی فوری طور پر عملی مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

News ID 1939920

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha