مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یومِ صحافت کے موقع پر صحافیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مزارِ شریف میں شہید ہونے والے ایرانی سفارت کاروں اور ایرنا کے شہید صحافی محمود صارمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحافی اور ایک سفارت کار کا ایک ساتھ شہید ہونا اپنے اندر گہرا مفہوم رکھتا ہے، کیونکہ دونوں اپنے اپنے محاذ پر قومی مفادات کے تحفظ اور حقائق کو دنیا کے سامنے لانے کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران، فلسطین اور لبنان میں متعدد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، اور ان تمام شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ یہ پیش رفت خطے کے ممالک کے بدلتے ہوئے سکیورٹی تصور کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ سلامتی کوئی ایسی چیز نہیں جو بیرونی طاقتوں یا نام نہاد سکیورٹی فراہم کرنے والوں سے خریدی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے خطے کے ممالک کو باہمی تعاون، اعتماد سازی اور بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بغیر مقامی سطح پر سلامتی کے نظام کو فروغ دینے کی ترغیب دیتا آیا ہے اور اسی تناظر میں اس معاہدے کو دیکھا جانا چاہیے۔
بقائی نے کہا کہ اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں جنگ، فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں، لبنان پر حملوں اور دیگر علاقائی ممالک کو دی جانے والی دھمکیوں نے خطے کے ممالک کو اس حقیقت کے مزید قریب کر دیا ہے کہ اسرائیل ہی خطے کے امن، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبے، لبنان اور شام میں اس کی فوجی کارروائیاں اور خطے کے مختلف ممالک بشمول ان ممالک کے خلاف دھمکیاں جو حالیہ سہ فریقی معاہدے کا حصہ ہیں، اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ خطے کے ممالک اب امریکہ کے سکیورٹی دعوؤں پر پہلے کی طرح انحصار نہیں کر سکتے۔
ترجمان وزارت خارجہ نے امریکہ کو بھی خطے میں عدم استحکام کا ایک بنیادی سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت اور سیاسی تحفظ کے بغیر اسرائیل اس حد تک کارروائیاں جاری رکھنے کے قابل نہ ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی پشت پناہی نے اسرائیل کو خطے میں اپنے اقدامات بلاخوف جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
بقائی نے زور دیا کہ خطے کی سلامتی ناقابلِ تقسیم ہے اور کوئی بھی سکیورٹی منصوبہ اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب وہ خطے کے تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے حقیقی خطرات کی درست نشاندہی کرے۔
کویت میں زیر حراست چار ایرانی شہریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایران مسلسل ان کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہا ہے، تاہم کویتی حکام بین الاقوامی قوانین کے برعکس ایرانی شہریوں تک قونصلر رسائی فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کویت اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے گا اور جلد ان شہریوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گا۔
کویت میں ایرانی اسکول کی بندش پر ردعمل دیتے ہوئے بقائی نے اسے ایک حیران کن اور ناقابل جواز اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانا، جہاں معصوم بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اس اقدام کو سیاسی نوعیت کا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی سفارت خانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو ایران کے خلاف کسی بھی غیر قانونی یا جارحانہ اقدام کے لیے اپنی سرزمین یا سہولیات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ حسنِ ہمسائیگی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچائیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت سے بعض ممالک کے انخلا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ عالمی برادری کے اس ادارے سے بڑھتی ہوئی مایوسی کی علامت ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ فلسطین میں ہونے والے واقعات اور عدالت پر امریکہ کے دباؤ نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ بین الاقوامی انصاف کے ادارے دوہرے معیار کا شکار ہو چکے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران اس پیش رفت سے کم و بیش آگاہ تھا اور اسے اس بات کی کوئی تشویش نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ایران کے تعلقات تاریخی اور دوستانہ نوعیت کے ہیں اور یہ معاہدہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
بحیرۂ خزر کے کنونشن کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کرتا ہے اور اس معاملے پر حتمی فیصلہ ملکی اداروں کے ذریعے کیا جائے گا۔
بقائی نے کہا کہ ایران ہمیشہ علاقائی سکیورٹی ڈھانچوں اور تعاون پر مبنی سلامتی کے نظام کا حامی رہا ہے، اور اس سلسلے میں ایران کی مختلف تجاویز آج بھی موجود ہیں جنہیں موجودہ حالات کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم ایران اس اہم عالمی فورم سے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے ہمیشہ استفادہ کرتا آیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کی موجودہ صورتحال کا بنیادی سبب امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں اور اس کی جانب سے طے شدہ مفاہمتوں کی خلاف ورزیاں ہیں۔ جب تک امریکہ اپنی بحری پابندیاں اور دیگر اقدامات ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ تجارتی گزرگاہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان جہاز رانی کے محفوظ راستے کے تعین کے لیے مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں اور دونوں ممالک ایک متفقہ اور محفوظ راستے کے تعین کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔
بقائی نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ اپنی تمام سرگرمیاں اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی رہنمائی اور قومی مفادات کے مطابق انجام دیتی ہے اور مستقبل میں بھی یہی طریقۂ کار جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے حوالے سے شواہد جمع کرنے اور قانونی کارروائی کے لیے دستاویزات مرتب کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے تاکہ متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر ان معاملات کو مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے۔
اختتام پر بقائی نے کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام کا خواہاں ہے جو باہمی تعاون، اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہو۔
آپ کا تبصرہ