18 جون، 2026، 8:56 AM

وائٹ ہاؤس سے بھی ایران اور امریکہ کے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سامنے آگئیں

وائٹ ہاؤس سے بھی ایران اور امریکہ کے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں دستخط کے لیے تیار 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت میں فوری جنگ بندی، ایران کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو منصوبے اور حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شامل ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دستاویز پر سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے اور آئندہ اجلاس اس مفاہمتی یادداشت کو ایک جامع معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوگا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے تحت امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی ایک دوسرے کے خلاف آئندہ کوئی فوجی اقدام نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

عہدیدار کے مطابق، اس دستاویز میں دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت تہران اور واشنگٹن نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ حتمی معاہدے کے لیے 60 دن کے اندر مذاکرات کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے ایران کی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا عمل شروع کرنے اور اسے 30 روز کے اندر مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی عہد کیا ہے۔

ان کے مطابق، ایران خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور عمان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے انتظام پر مشاورت کرے گا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے ایران کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرے گا۔ اس منصوبے کی مالیت 300 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ اس کے عملی طریقۂ کار کا تعین حتمی معاہدے میں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے ایران پر عائد پابندیوں کو طے شدہ ٹائم فریم اور حتمی معاہدے کے دائرہ کار میں مرحلہ وار ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق، ایران نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا ان کی تیاری کے درپے نہیں ہے۔

یہ مؤقف کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں رہا۔

News ID 1939816

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha