28 مئی، 2026، 11:59 AM

جمعرات کی صبح جنوبی ایران میں کیا ہوا؟ دھماکے اور جوابی کارروائی کی تفصیلات سامنے آگئیں

جمعرات کی صبح جنوبی ایران میں کیا ہوا؟ دھماکے اور جوابی کارروائی کی تفصیلات سامنے آگئیں

ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں جمعرات کی علی الصبح اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جب امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت، فضائی حملوں اور اس کے بعد ایرانی افواج کی جوابی کارروائی کے باعث بندرعباس، قشم اور سیریک سمیت کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، ایران کے صوبے ہرمزگان میں ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی گئی، جس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے فوری اور سخت ردعمل دیا۔

واقعے کی ابتدا؛ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش

رپورٹ کے مطابق، کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب چند امریکی بحری جہازوں نے بغیر کسی پیشگی اجازت یا رابطے کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا کہ اس حساس آبی گزرگاہ میں ہر قسم کی بحری نقل و حرکت ایران کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے مشروط ہوگی۔

امریکی بحری جہازوں کے قریب آتے ہی ایرانی بحریہ کے یونٹس متحرک ہوگئے اور عملی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے ان کا راستہ روک دیا، جس کے بعد امریکی جہازوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

بندرعباس پر حملہ اور ڈیفنس سسٹم کی کارروائی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پسپائی کے باوجود امریکی افواج نے بعد ازاں بندرعباس ایئرپورٹ کے اطراف ایک مقام پر فضائی حملہ کیا، جسے ایرانی ذرائع نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین پر کھلی جارحیت قرار دیا۔

اسی دوران بندرعباس کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر اور ایئرپورٹ کے اطراف تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سپاہ پاسداران کی جوابی کارروائی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے بعد میں امریکی فضائی اڈے کو صبح 4 بج کر 50 منٹ پر نشانہ بنایا گیا۔

سپاہ کے مطابق، یہ کارروائی دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی تجاوز کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا، جبکہ دوبارہ ایسی کارروائی کی صورت میں ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

قشم اور سیریک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات

مقامی رہائشیوں نے قشم اور سیریک میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ آوازیں آبنائے ہرمز کے داخلی راستوں کے قریب محدود بحری جھڑپوں کے باعث سنائی دیں۔

کچھ غیر مصدقہ رپورٹس میں سیریک کے قریب ایک بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔

آبنائے ہرمز میں دوبارہ کشیدگی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیریک کی جغرافیائی اہمیت اور آبنائے ہرمز سے قربت کی وجہ سے ایسے واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنے علاقائی پانیوں اور اہم بحری راستوں کی نگرانی مکمل طاقت اور میدان پر بھرپور کنٹرول جاری ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران امریکی افواج کی کارروائیوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے پانیوں میں سلامتی صرف قوانین کی پاسداری اور ایران کے ساتھ رابطے کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں جارح فریق کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

News ID 1939459

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha