مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ایرو اسپیس، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقیاتی ادارے کے سیکریٹری شکری نے کہا ہے کہ ایرانی کارگو طیارہ "سیمرغ" اس وقت معیار، لائسنس اور سرٹیفکیشن کے اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، اور توقع ہے کہ تمام ضروری منظوریوں کے بعد یہ طیارہ 2027 میں تجارتی شعبے کا حصہ بن جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کی فضائی صنعت کو کئی برسوں سے بیرونی پابندیوں اور جدید طیاروں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں مقامی سطح پر تیار کیا گیا سیمرغ صرف ایک علامتی منصوبہ نہیں بلکہ ملک کی فضائی نقل و حمل کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
سیمرغ کو بنیادی طور پر مال برداری اور لاجسٹک خدمات کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد فضائی کارگو صلاحیت میں اضافہ، مقامی ہوابازی صنعت کو فروغ دینا اور مستقبل میں مزید جدید طیاروں کی تیاری کے لیے تکنیکی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
یہ طیارہ ایران-140 کے پلیٹ فارم پر تیار کیا گیا ہے اور اس کی تیاری میں متعدد نالج بیسڈ کمپنیوں نے مختلف ذیلی نظاموں، تکنیکی آلات، آزمائشی مراحل، دستاویزات، معیار بندی اور سرٹیفکیشن کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
شکری نے مزید کہا کہ متعلقہ کمپنی، ہسا اور ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن باہمی تعاون سے STC اور TC سرٹیفکیشن کے حصول کے لیے کام کر رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ