27 جولائی، 2026، 2:03 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

پیرس سے مرصاد تک؛ دفاع مقدس کے واحد یورپی شہید کمال کورسل کی داستان

پیرس سے مرصاد تک؛ دفاع مقدس کے واحد یورپی شہید کمال کورسل کی داستان

فرانسیسی نژاد کمال کورسل اسلام اور انقلابِ اسلامی سے متاثر ہو کر ایران پہنچے اور دفاع مقدس کے اہم معرکوں میں شرکت کرتے ہوئے شہادت پا کر تاریخ کا حصہ بن گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی، ثقافتی ڈیسک‌: ایران کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سرزمین نے نہ صرف بیرونی دشمنوں کی جارحیت بلکہ اندرونی غداروں کی سازشوں کا بھی بارہا سامنا کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 2025 میں جب ایران مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے دوران 12 روزہ جنگ کا شکار ہوا یا 40 روزہ جنگ کے دوران بیرون ملک موجود وطن فروش عناصر کی خوشی اور ان کی غداری مشاہدے میں آئی، تو بہت سے لوگوں کو ماضی کے واقعات یاد آگئے۔

تقریباً چار دہائیاں قبل بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا تھا۔ ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد 598 قبول کیے جانے کے چند ہی روز بعد، جب تہران اقوام متحدہ کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف تھا، اچانک مغربی محاذ سے ایک نئی یلغار کی خبر آئی۔ اس بار حملہ عراقی بعثی فوج نے نہیں بلکہ صدام حسین کی سرپرستی میں منافقین نے کیا، جنہوں نے فروغ جاویدان کے نام سے ایران پر حملہ کرتے ہوئے نعرہ لگایا: "آج مہران، کل تہران"۔

منافقین کا خیال تھا کہ وہ صرف تین دن میں تہران پر قبضہ کرلیں گے، لیکن ایرانی افواج نے شہید جنرل علی صیاد شیرازی کی قیادت میں "یا علی" کے رمز کے ساتھ آپریشن مرصاد شروع کیا۔ اس کارروائی میں تقریباً دو ہزار منافقین مارے گئے اور باقی کو پسپا ہونا پڑا۔ مرصاد صرف بڑے کمانڈروں کی نہیں بلکہ بے شمار گمنام جانبازوں کی بھی داستان ہے، جن میں ایک نام کمال کورسل کا ہے، جنہیں دفاع مقدس کا واحد یورپی شہید کہا جاتا ہے۔

مسیحیت سے اسلام تک کا سفر

کمال کورسل کا اصل نام ژروم مورسل تھا۔ وہ 1964ء میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ فرانسیسی جبکہ والد تیونس سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ ان کے والد مسلمان تھے، لیکن کمال نے ابتدا میں اپنی والدہ کی پیروی کرتے ہوئے مسیحیت اختیار کی۔

سترہ برس کی عمر میں وہ تیونس گئے، جہاں مسلمان دوستوں کی رفاقت نے ان کی سوچ بدل دی۔ انہوں نے اسلام قبول کیا اور بعد ازاں امام خمینیؒ اور انقلاب اسلامی ایران سے آشنا ہوئے۔ انقلاب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کچھ ہی عرصے بعد مکتب تشیع اختیار کر لیا۔

کمال کے والد کے مطابق، ان کے بیٹے نے امام خمینیؒ کی فرانسیسی زبان میں ترجمہ شدہ تقاریر کے ذریعے انقلاب اسلامی کو پہچانا۔ پیرس میں مقیم امام خمینیؒ کے پیروکار ایرانی طلباء سے ملاقاتوں اور ان کی تقریبات میں شرکت نے کمال کو مزید ایران کے قریب کر دیا۔ بعد ازاں وہ ایران آئے اور قم کے حوزۂ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔

پیرس میں منافقین کے خلاف فکری محاذ

جون 1981ء میں منافقین نے ایران میں مسلح کارروائیوں کا آغاز کیا، جن کے نتیجے میں بے گناہ ایرانی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کچھ ہی عرصے بعد مسعود رجوی اور ابوالحسن بنی صدر فرانس فرار ہوگئے، جہاں منافقین نے اپنی سرگرمیوں کا نیا مرکز قائم کر لیا۔

وہ پیرس کی سڑکوں اور میٹرو اسٹیشنوں پر اسلامی جمہوری ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرتے اور عوام سے دستخط جمع کرتے تھے، لیکن ہر جگہ انہیں کمال کورسل کا سامنا کرنا پڑتا۔ فرانسیسی ہونے کی وجہ سے وہ باآسانی لوگوں کے درمیان موجود رہتے اور جہاں منافقین اپنا پروپیگنڈا شروع کرتے، وہیں ان سے بحث و مباحثہ کرتے۔

ان کی اعتقادی اور سیاسی گفتگو اس قدر مضبوط اور مدلل ہوتی کہ اکثر منافقین کو اپنا اسٹال چھوڑ کر جانا پڑتا۔ 1981ء اور 1982ء کے دوران کمال نے منافقین سے اتنی بار گفتگو کی کہ ان کے تقریباً تمام اعتراضات اور شبہات کے جوابات انہیں ازبر ہوگئے تھے۔

جب کمال کورسل کو یقین ہوگیا کہ اس تنظیم کے ہاتھ بے گناہ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کے خلاف جدوجہد کو اپنا فرض سمجھا۔ وہ نہ صرف سڑکوں پر مناظرے کرتے بلکہ مضامین لکھ کر بھی منافقین کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے رہے۔

محاذ تک پہنچنے کی جدوجہد

ایران۔عراق جنگ شروع ہوئی تو کمال نے بھی ایرانی مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا، لیکن فرانسیسی شہریت اور سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں کئی مرتبہ محاذ پر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل کوشش جاری رکھی۔ بالآخر 1984ء میں ان کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور انہیں سپاہ بدر کے ساتھ محاذ جنگ پر جانے کی اجازت مل گئی۔

کمال نے دفاعِ مقدس کے دوران آپریشن کربلائے 2، کربلائے 5 اور والفجر 10 سمیت متعدد اہم معرکوں میں حصہ لیا اور اپنی بہادری، اخلاص اور ثابت قدمی سے ساتھیوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

آرزو کی تکمیل، مرصاد میں شہادت

1988ء کے موسم گرما میں منافقین کے آخری بڑے حملے کے جواب میں ایرانی افواج نے آپریشن مرصاد شروع کیا۔ اسی کارروائی کے دوران جب ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مجاہدین کو محاذ پر منتقل کیا جا رہا تھا تو کمال کورسل کے سر پر گولی لگی اور وہ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔

یوں فرانس میں پیدا ہونے والا یہ روشن بالوں والا نوجوان، جس نے کبھی پیرس کی سڑکوں پر منافقین کے خلاف فکری جنگ لڑی تھی، بالآخر ایران کی سرزمین پر انہی آرمانوں کے دفاع میں اپنی جان قربان کر گیا جنہیں اس نے پوری زندگی اپنا مقصد بنایا تھا۔ آج کمال کورسل کو دفاع مقدس کی تاریخ میں واحد یورپی شہید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 

News ID 1940464

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha