مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مہر میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو محمد مہدی رحمتی نے کہا ہے کہ آج کی دنیا میں قومیں اور قدیم تہذیبیں یکطرفہ پالیسیوں اور یک قطبی عالمی نظام کے سامنے شکست تسلیم نہیں کریں گی، جبکہ ایرانی عوام کی حالیہ مزاحمت اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے میڈیا اور تھنک ٹینکس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد مہدی رحمتی نے کہا کہ رکن ممالک اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کے ذریعے اپنی منتشر صلاحیتوں کو ایک مؤثر علاقائی اور عالمی قوت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اجلاس میں 25 ممالک سے تقریباً 200 نمائندوں نے شرکت کی۔
انہوں نے شاہراہ ریشم کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بیشتر رکن ممالک تہذیبی اور تاریخی روابط کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ روح شنگھائی مشترکہ ادراک، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
رحمتی نے کہا کہ موجودہ عالمی ماحول میں غلط فہمیاں اور منفی تصورات رکن ممالک کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، جنہیں حقائق پر مبنی اور جامع میڈیا رپورٹنگ کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اسمارٹ میڈیا صرف اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اختلافات کے خاتمے، باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ مستقبل کی تعمیر کا ایک اسٹریٹجک وسیلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مربوط اسمارٹ میڈیا محض نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ سوچ، مواد کی تیاری، تقسیم اور عوامی رابطے کے نظام میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، جس کے لیے نیٹ ورک گورننس اور کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔
اپنی تقریر میں رحمتی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے لیے چار تجاویز بھی پیش کیں، جن میں مشترکہ اسمارٹ میڈیا اور تھنک ٹینک پلیٹ فارم کا قیام، روح شنگھائی کے نفاذ کا باقاعدہ جائزہ لینے کا نظام، کامیاب میڈیا تجربات اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ابلاغی ماڈلز کا تبادلہ اور غلط فہمیوں کو سیاسی یا سلامتی کے بحران میں تبدیل ہونے سے پہلے دور کرنے کے لیے مستقل مشاورتی نیٹ ورک کی تشکیل شامل ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ بشکک کا یہ اجلاس مشترکہ مستقبل کے حامل انسانی معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک عملی قدم ثابت ہونا چاہیے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو باہمی ہم آہنگی کے ذریعے ایک مضبوط اور مؤثر میڈیا تعاون کی بنیاد رکھنی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ