مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیت المقدس کے سابق مفتی اور سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ عکرمہ صابری نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام آئندہ ماہ رمضان کے دوران مسجد اقصی میں آنے والے مسلمان نمازیوں پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شیخ صابری کے مطابق یہ پابندیاں خصوصا مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سے آنے والے فلسطینیوں کو متاثر کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ قابض حکام کی جانب سے پہلے ہی نوجوانوں کو مسجد اقصی کے احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا ہے اور یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ رمضان کے دوران مغربی کنارے سے آنے والے نمازیوں کے لیے موجودہ پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ان اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسجد اقصی میں نمازیوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہے گی، جو عبادت کی آزادی کے اصول کے منافی ہے اور مسلمانوں کے لیے ماہ صیام میں عبادت کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے گا۔
یاد رہے کہ ہر سال ماہ رمضان کے دوران مغربی کنارے سے لاکھوں فلسطینی مشرقی القدس پہنچ کر مسجد اقصی میں نماز ادا کرتے ہیں۔ تاہم 7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی حکام نے فوجی چوکیوں پر سختی بڑھا دی ہے جس کے باعث فلسطینیوں کی آمد و رفت محدود ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دو برسوں میں صرف محدود تعداد میں فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اجازت نامے جاری کیے گئے، جن کے حصول کو فلسطینی مشکل قرار دیتے ہیں۔ اس سال رمضان کے لیے کسی خصوصی انتظام کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔
مزید برآں، حالیہ دنوں میں مشرقی بیت المقدس کے سینکڑوں فلسطینی باشندوں، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، کو عارضی احکامات کے ذریعے رمضان کے دوران مسجد اقصی میں داخلے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ بعض پابندیاں چھ ماہ تک کے لیے عائد کی گئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ