مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، وانگ یی نے کہا کہ امریکہ کی کوششیں چین کی ترقی کو محدود کرنے کی تمام تر کوششوں پر مرکوز ہیں۔ تائیوان کو چین سے علیحدہ کرنے کی کوششیں تعلقات میں ایک سرخ لکیر ہیں اور اس سے تصادم جنم لے سکتا ہے۔
چین کے وزیر خارجہ نے بین الاقوامی نظام کی ناکامی کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بعض ممالک خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں، جو عالمی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتا ہے۔
وانگ یی نے یورپ کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو صرف مبصر کے طور پر نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے یوکرین میں امن مذاکرات کی میز پر فعال حصہ لینا ہوگا۔ چین براہ راست یوکرین تنازعہ میں شامل نہیں، اور اس بحران کے حل کی حتمی ذمہ داری چین کے پاس نہیں، لیکن بیجنگ چاہتا ہے کہ فریقین پر امن قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
چین نے یورپ اور روس کے درمیان بات چیت کی حمایت کی اور کہا کہ یورپی اتحاد کو بحران کے حل کے لیے اپنے آئیڈیاز اور منصوبے پیش کرنے چاہئیں۔
آپ کا تبصرہ