مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ اگر موجودہ مذاکرات کامیاب ثابت ہوں تو انہیں مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
عمانی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ عمل مستقبل میں امریکہ کے ساتھ دیگر اختلافات پر باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار کرے گا یا نہیں۔ توقعات کو غیر ضروری طور پر بلند نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ابھی تک مذاکرات کا صرف ایک مرحلہ مکمل ہوا ہے اور آئندہ کی سمت کا تعین عملی پیش رفت سے ہوگا۔
لاریجانی نے واضح کیا کہ اگر امریکی تشویش صرف اس بات تک محدود ہو کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی طرف نہ بڑھے تو یہ مسئلہ قابل حل ہے، تاہم اگر اس کے علاوہ دیگر موضوعات مذاکرات میں شامل کیے گئے تو بات چیت پیچیدگی کا شکار ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسائل کے جلد حل کا خواہاں ہے اور وقت ضائع کرنے کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا، اس لیے موجودہ مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔
آپ کا تبصرہ