11 فروری، 2026، 8:27 AM

مذاکرات میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہے، عراقچی

مذاکرات میں پیشرفت کا انحصار امریکی رویے پر ہے، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ واقعی سنجیدہ ہے تو ایران بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث مکمل اعتماد ابھی ممکن نہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے سفارتی حل کو بہترین آپشن قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق روسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات، خطے کی صورتحال اور ایران کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ بتایا گیا ہے کہ امریکی فریق کا ارادہ کسی پرامن حل کی تلاش ہے۔ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں تو ایران بھی سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار ہے، تاہم تہران کو ابھی مکمل یقین حاصل نہیں۔

عراقچی نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نتن یاہو جنگ کے حامی ہیں اور گزشتہ دو برسوں میں خطے کے سات ممالک پر حملے کیے گئے، جن میں قطر بھی شامل ہے جو امریکہ کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ صہیونی وزیر اعظم امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن ایسی کسی بھی مہم جوئی کا نتیجہ ماضی کی طرح ناکامی ہی ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی ملاقاتوں سے یہ تاثر ملا ہے کہ کچھ امریکی شخصیات جنگ سے گریز اور سفارتی حل کی تلاش کی خواہاں ہیں، اور یہی فیصلہ صدر ٹرمپ کے لیے سب سے زیادہ دانشمندانہ راستہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ بجلی گھروں کے لیے پانچ فیصد سے کم افزودگی درکار ہوتی ہے جبکہ تہران ریسرچ ری ایکٹر جیسے بعض مخصوص مقاصد کے لیے بیس فیصد تک افزودگی ضروری ہے۔ ایسا معاہدہ ممکن ہے جو سابقہ جوہری معاہدے سے بھی بہتر ہو اور جس کے ذریعے یہ ضمانت دی جاسکے کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔

عراقچی نے کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو ایک عملی تجویز پر کام کرنے کی ہدایت دی ہے جو ایک طرف جوہری ہتھیاروں کی عدم موجودگی کی ضمانت دے اور دوسری طرف ایران کے پرامن جوہری حقوق، مثلاً بجلی کی پیداوار، طبی ادویات اور زرعی مقاصد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امریکہ پر مکمل اعتماد نہیں کیونکہ گزشتہ جون میں جاری مذاکرات کے دوران اچانک حملہ کیا گیا، جو تہران کے لیے ایک نہایت تلخ تجربہ تھا۔ آئندہ کسی بھی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو، اور اس کا انحصار بڑی حد تک امریکی رویے پر ہے۔

News ID 1937973

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha