مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں ایک اعلیٰ سطح کے یورپی سفارتکار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مادورو کو طاقت اور تشدد کے ذریعے اغوا کرنا دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہے؛ امریکہ اپنے سیاسی اہداف کی تکمیل کے لیے براہِ راست فوجی ہتھیار کا استعمال کرتا ہے، چاہے اس کی قیمت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی خودمختاری کو پامال کرنا ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام یورپ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ نیٹو کی گزشتہ 75 سالہ تاریخ میں پہلی بار یورپی ممالک خود کو امریکہ کا سیاسی شراکت دار نہیں سمجھتے، بلکہ وہ خود کو امریکہ کے سامنے ایک ممکنہ ہدف کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی مطالبات کے تناظر میں۔
اس صورتحال نے برِاعظم یورپ میں ایک سیکورٹی کا خلا پیدا کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک اب امریکی چھتری سے آزاد ہو کر خود کو آزادانہ طور پر مسلح کرنے کے اپنے منصوبے میں تیزی لا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وینزویلا پر امریکی فوجی جارحیت اور وہاں کے صدر کے اغوا نے دنیا کے مختلف ممالک میں منفی ردعمل کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ایک خطرناک حرکت ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کو مزید بھڑکانے کا باعث بنے گی۔
آپ کا تبصرہ