24 دسمبر، 2025، 10:52 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل طاقت نے اسرائیل کی نیندیں اڑا دیں

ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل طاقت نے اسرائیل کی نیندیں اڑا دیں

اسرائیلی و امریکی میڈیا اور سابق فوجی و انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل تل ابیب کے لیے ایٹمی پروگرام سے بھی بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: اسلامی جمہوری ایران نے صہیونی حکومت کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دفاعی ہتھیاروں پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ ایرانی دفاعی حکام کے مطابق جون میں ہونے والی جنگ کے تجربات کی روشنی میں میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔ صہیونی حکومت ایرانی بیلسٹک میزائل طاقت کو اپنے لئے سنگین خطرہ سمجھتی ہے۔ صہیونی سیاسی، فوجی اور ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے تجزیوں اور رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر شدید خوف اور بے چینی کی فضا طاری ہے۔ اس خوف کی بنیادی وجہ ایران کی وہ میزائل صلاحیت ہے جو نہ صرف مسلسل مضبوط ہو رہی ہے بلکہ عملی میدان میں بھی اپنی تباہ کن اثر پذیری ثابت کرچکی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق ایران کی میزائل طاقت میں اضافہ اس وقت تل ابیب کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی تشویش کے باعث اسرائیل نے عارضی طور پر ایران کے ایٹمی پروگرام کو پس منظر میں ڈال دیا ہے اور اپنی توجہ مکمل طور پر تہران کی بڑھتی ہوئی میزائل قوت پر مرکوز کر دی ہے۔

ادھر صہیونی نشریاتی ادارے کان نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ کے دوران ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کو بھاری جانی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا، تاہم ان نقصانات کی مکمل تفصیل سرکاری سطح پر عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق حقیقی نقصانات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تھے اور ایرانی میزائلوں کا اثر میدان جنگ میں توقع سے کہیں زیادہ سنگین ثابت ہوا۔

میزائل پروگرام ایٹمی مسئلے سے زیادہ پریشان کن

اسرائیلی بحریہ کے سابق کمانڈر الیزر ماروم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کے ایٹمی مسئلے کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے اور اصل توجہ اس کے میزائل پروگرام پر ہونی چاہیے۔ ہم نے خود دیکھا ہے کہ یہ میزائل کیا تباہی مچاسکتے ہیں۔ اگر ایران کے صرف دس میزائل بھی اسرائیل میں آ گریں تو ہمارے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

تل ابیب کی رایشمن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے پالیسی اینڈ اسٹریٹجی میں مشرق وسطی امور کے سربراہ ڈاکٹر شای ہارتزوی کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف کسی ایسی فوجی مہم جوئی میں شامل نہیں ہوگا جس کا آغاز تو معلوم ہو مگر انجام غیر یقینی ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران بیک وقت اپنی میزائل، ایٹمی صلاحیتوں اور حزب اللہ کی حمایت کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ امریکہ اس خطرناک مہم میں کودنے کو تیار نہیں اور اسرائیل بھی امریکی تعاون کے بغیر ایران کے خلاف کوئی بڑا قدم نہیں اٹھاسکتا۔

وزارت اسٹریٹجک امور کے تحت فلسطین ڈیسک کے سربراہ کوبی مائیکل نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اسرائیل میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل کے لیے اس وقت ایران کا میزائل پروگرام اس کی ایٹمی صنعت سے بھی زیادہ اہم اور خطرناک ہوچکا ہے۔

اسی تناظر میں موساد سے وابستہ رہنے والے منشا امیر نے صہیونی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بارہ روزہ جنگ میں اسرائیل کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ تو ایران کے ایٹمی پروگرام کو روک سکا اور نہ ہی اس کی میزائل صلاحیت کو محدود کرنے میں کامیاب ہوسکا۔

صہیونی ذرائع کے ان اعترافات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل طاقت سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے بلکہ اسرائیلی عسکری اور سیاسی قیادت کے لیے ایک مستقل خوف کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کے دعوے اور زمینی حقائق

بارہ روزہ جنگ کو گزرے چھ ماہ بعد، ایران کے خطرے کو ختم کرنے کے دعوے بتدریج ماند پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ تہران کا ایٹمی پروگرام اب بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن زمینی حقائق ایک بڑھتے ہوئے بیلسٹک خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ صہیونی ذرائع کے مطابق ایرانیوں نے گرد و غبار چھٹا دیا ہے، میزائل صنعت کو ازسرنو فعال کر لیا ہے، چین سے بڑی مقدار میں خام مواد تیزی سے درآمد کیا جارہا ہے اور اب وہ صرف چند ماہ کے فاصلے پر ہیں اس سطح تک پہنچنے سے جو جنگ کے دوران ان کے پاس موجود تھی، یعنی دو ہزار سے زائد میزائل۔ یہ ایک نہایت سنگین خطرہ ہے۔

صہیونی تجزیوں کے مطابق گزشتہ موسم گرما میں صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے بعد، ایرانیوں نے ٹھوس ایندھن اور مائع ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے، اور یہ عمل بلا شبہ صہیونی حکومت کے لیے ایک وجودی خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔ جارحیت کے آغاز میں صہیونی حکومت نے ایرانی اعلی حکام اور بیلسٹک میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا اور اپنے تئیں ایران کی صلاحیت کو محدود سمجھ لیا، لیکن جنگ کے دوران ایران نے سینکڑوں میزائل مقبوضہ علاقوں کی جانب داغے، جن میں سے بعض نے ان علاقوں کی گہرائی تک جا کر شدید تباہی مچائی۔

جنگ کے بعد مقبوضہ علاقوں میں بارہا ایسے مناظر دیکھے گئے جہاں صہیونی آبادکار سڑکوں پر کھڑے رو رہے تھے، کیونکہ وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکتے تھے؛ اس لیے کہ ان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی گھر باقی نہیں رہا تھا۔

صہیونی ذرائع کے تخمینوں کے مطابق جنگ سے قبل ایران کے میزائل ذخیرے میں تقریبا دو ہزار بیلسٹک میزائل شامل تھے، جو مقبوضہ علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے، جن میں شہاب تھری اور خیبر میزائل بھی شامل تھے۔ اب، جبکہ جنگ کے دوران تقریبا چار سو پچاس بیلسٹک میزائل داغے گئے، اندازوں کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً پندرہ سو بیلسٹک میزائل باقی ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ، پاسداران انقلاب نے درست نشانے والے میزائلوں کی پیداوار بھی دوبارہ شروع کر دی ہے اور آئندہ برسوں میں بیلسٹک میزائلوں کی تعداد کو تقریبا بیس ہزار تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

صہیونی حکومت کے ایک سکیورٹی ادارے کے مطابق، اسرائیل کے خاتمے کے بارے میں تہران کے نظریاتی مؤقف نے ایران کو اپنی طاقت بڑھانے پر مجبور کیا ہے، خاص طور پر درست نشانے والے اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری میں تیزی آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنا سکتی ہے۔ بڑی تعداد میں میزائل داغنے کی صلاحیت، ان کی زیادہ درستگی اور بہتر معیار کے باعث، یہ میزائل صہیونی حکومت کے اہم فوجی و اسٹریٹجک مراکز، بنیادی ڈھانچے، صہیونی بستیوں اور مقبوضہ علاقوں کے اندرونی حصوں تک شدید نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

صہیونی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ایران ان کے مقابلے کے لیے پرعزم ہے، اور اس راستے میں وہ ہتھیار جو کھیل کے اصول بدلنے اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ ایرانی درست نشانے والے اور بیلسٹک میزائل ہیں؛ وہی میزائل جو صہیونیوں کی نیندیں حرام کرچکے ہیں۔

حاصل سخن

اس وقت صہیونی قیادت کی سب سے بڑی تشویش ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ہے۔ یہ تشویش اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صہیونی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کے سامنے کمزور ہے۔ یہی موضوع جلد ہی نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں زیربحث آنے کا امکان ہے۔

مقبوضہ علاقوں میں ایک بات طے شدہ سمجھی جا رہی ہے، اور وہ یہ کہ ایران مستقبل قریب میں ممکنہ فوجی تصادم کے لیے ابھی سے خود کو تیار کررہا ہے۔ اس تصادم میں ایک بار پھر ایرانی میزائل ہی وہ عنصر ہوں گے جو کھیل کے قواعد بدلیں گے اور جیت میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

News ID 1937269

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha