مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی حکومت کی جانب سے فلسطین سمیت مشرق وسطی کے مختلف ممالک پر جارحیت اور مقاومت کے ہاتھوں غاصب اسرائیل کو ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد حسب سابق امریکہ امن کا دعوے دار بن کر میدان میں اترگیا۔ صدر ٹرمپ نے خطے میں امن برقرار کرنے کے لئے نام نہاد منصوبہ پیش کیا اور اسرائیل کو جنگ بندی پر تیار کیا۔ صدر ٹرمپ نے کچھ ممالک کے سربراہان کو مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں جمع کرکے معاہدے کی تقریب میں خود بھی شرکت کی اور خود کو امن کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطی میں پائیدار امن قائم کرنے کے دعوے کو عالمی تجزیہ کاروں نے مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ فروش ملک، جو خود خطے میں جنگوں اور عدم استحکام کا بانی رہا ہے، کس طرح امن کا علمبردار بن سکتا ہے؟ افغانستان اور عراق میں جنگوں سے لے کر فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی حمایت تک اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن کا اصل مقصد امن نہیں بلکہ اپنی بالادستی قائم رکھنا ہے۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کو جارحانہ بنا لیا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت افغانستان اور عراق پر حملے کیے گئے۔ ان حملوں کا مقصد بظاہر دہشتگردی کا خاتمہ اور جمہوریت کا فروغ تھا، لیکن حقیقت میں ان حملوں کے نتیجے میں ریاستی ادارے تباہ ہوئے، سماجی ڈھانچے بکھر گئے اور ایسا خلا پیدا ہوا جس میں القاعدہ اور داعش جیسے گروہ پیدا ہوئے۔ عراق میں امریکی نمائندے پال بریمر نے فوج اور سرکاری اداروں کو تحلیل کر دیا، جس سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو کر باغی گروہوں میں شامل ہوگئے۔ افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کے بعد امریکہ اچانک انخلاء کرگیا، جس سے طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے، وہی گروہ جس کے خلاف جنگ شروع کی گئی تھی۔
یہ تلخ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ نہ صرف امن قائم کرنے میں ناکام رہا بلکہ اس کی پالیسیوں نے خطے میں مسلسل بدامنی کو جنم دیا۔ خود امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطی میں ان کی طویل فوجی موجودگی نے سیاسی اور اقتصادی نظام کو کمزور کیا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل کو دی جانے والی امریکی حمایت بھی خطے میں تشدد کو بڑھانے کا سبب بنی۔ واشنگٹن نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے اور فلسطینیوں پر حملوں میں خاموشی اختیار کی۔ گزشتہ دو سالوں میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور غزہ پر امریکی ساختہ بم برسائے گئے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو بارہا ویٹو کیا۔ نتیجتاً، امریکہ کی مداخلتوں اور جانبدارانہ پالیسیوں نے مشرق وسطی کو مزید تباہی، بداعتمادی اور تشدد کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ کا امن منصوبہ نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ خطے کے عوام کے لیے ایک نیا فریب ہے۔
ٹرمپ اور امن کا دکھاوا
ڈونلڈ ٹرمپ آج خود کو ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور مشرق وسطی میں عظیم امن کی بات کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے بیانات اور طرز عمل کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ دعوی دراصل امریکہ کی پرانی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے، بس اب اسے ایک سفارتی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ موجودہ بحرانوں کو استعمال کرکے امریکہ کی جغرافیائی حیثیت کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ثالثی کے نعرے کے ساتھ امریکی سامراجیت کو ایک نئے روپ میں سامنے لانا چاہتے ہیں۔
اگرچہ ان کے بیانات نرم لہجے میں ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ نہ تو فوجی انخلاء چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکی اثر و رسوخ میں کمی۔ بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ کی طاقت کو فوجی سے سیاسی و اقتصادی طاقت میں منتقل کیا جائے۔ یعنی وہ امن کے ذریعے وہی پرانا اثر و رسوخ ایک نئے انداز میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی پالیسی ان کے پہلے دور صدارت میں ابراہیم معاہدے کی صورت میں سامنے آئی تھی، جس نے چند عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ایک مصنوعی امن قائم کیا، مگر فلسطین کے اصل مسئلے کو نظر انداز کر دیا۔
درحقیقت، ٹرمپ جس امن کی بات کرتے ہیں وہ انصاف سے خالی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آجائیں، جبکہ فلسطینی عوام اب بھی محاصرے میں ہیں اور غزہ تباہی کا شکار ہے۔ ٹرمپ کی اسرائیلی اقدامات پر کبھی کبھار کی مخالفت بھی فلسطینیوں سے ہمدردی کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ اسرائیل کی شدت پسندانہ کارروائیاں امریکی مفادات کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ اس سیاسی کھیل میں ٹرمپ خود کو نجات دہندہ ظاہر کرتے ہیں تاکہ عربوں سے امن کے نام پر اور اسرائیل سے سلامتی کے نام پر فائدہ حاصل کرسکیں۔
اس امن پسندی کے پردے کے پیچھے وہی پرانا امریکی نظریہ چھپا ہوا ہے یعنی توانائی کے وسائل پر کنٹرول، چین، روس اور ایران جیسے حریفوں کو قابو میں رکھنا اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا۔ اسی لیے واشنگٹن کی جانب سے مشرق وسطی کو بچانے کا دعوی نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ اس پالیسی کا تسلسل ہے جو برسوں سے اس خطے کو جنگ و تباہی میں جھونک رہی ہے۔
نتیجہ
امریکہ کا امن کا دعوی خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایک کھلا تضاد ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ فروخت کرنے والا ملک خود کو امن کا علمبردار ظاہر کرے؟ اور کیسے اس حکومت پر اعتماد کیا جاسکتا ہے جس کے دنیا بھر میں 80 سے زائد فوجی اڈے ہیں اور جو ہر سال اربوں ڈالر جنگی مہم جوئی اور نیابتی جنگوں پر خرچ کرتی ہے؟ درحقیقت، امریکہ کی مشرق وسطی سے متعلق پالیسی ہمیشہ بحران کو حل کرنے پر نہیں بلکہ استعمال کرنے پر مبنی رہی ہے۔ واشنگٹن پہلے عدم استحکام پیدا کرتا ہے پھر خود کو نجات دہندہ ظاہر کرتا ہے اور امن کے وعدے کے ساتھ اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرتا ہے۔ ٹرمپ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں بس فرق یہ ہے کہ ان کی زبان نرم ہے اور نعرے عوام کو لبھانے والے۔ اصل امن تب قائم ہوگا جب خطے کی اقوام بغیر بیرونی مداخلت کے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ جب تک امریکہ امن کے نام پر اپنی فوجی اور سیاسی موجودگی برقرار رکھے گا، مشرق وسطی میں بدامنی ختم نہیں ہوگی۔ اس منظرنامے میں ٹرمپ صرف ایک نیا کردار ہیں مگر اس پرانے اسٹیج پر ہی کھیل رہے ہیں وہی اسٹیج جہاں امریکہ خود آگ لگاتا ہے اور پھر اسے بجھانے کا دکھاوا کرکے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے۔
لہذا یہ کہنا درست ہوگا کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ دراصل جنگ کے خاتمے کا منصوبہ نہیں بلکہ امریکی تسلط کو جاری رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سلطنت دوسروں پر طاقت تھوپ کر پائیدار امن قائم نہیں کرسکی۔ مشرق وسطی کو امن کی ضرورت ہے، لیکن ایسا امن نہیں جو واشنگٹن سے مسلط کیا جائے؛ بلکہ ایسا امن جو عوام کی مرضی، باہمی احترام اور خطے کے ممالک کے حقیقی تعاون سے جنم لے۔ جب تک امریکہ خود کو بیک وقت جج، پولیس اور نجات دہندہ سمجھتا رہے گا، یہ خطہ سکون کا سانس نہیں لے گا۔
آپ کا تبصرہ