مہرخبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے امریکی کانگریس کی سربراہ ننسی پلوسی اور امریکی نائب صد ڈک چنی کی موجودگی میں امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردن اور امریکہ کی دوستی بہت گہری اور طولانی ہے اور اردن کو امریکہ پر بڑا اعتماد ہے عبداللہ نے کہا کہ امریکہ کو مشرق وسطی کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرناچاہیے انہوں نے کہا کہ امریکہ پر اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے کوشش کرے اردن کے شاہ نے کہا کہ عراق سے زیادہ ضروری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ساٹھ برس سے فلسطینیوں کی دربدری اور چالیس سال سے جاری اسرائیل کے قبضے نے مایوسی اور ناامیدی کی تلخ اور طویل داستان مرتب کی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرح ہمارے خطے میں بھی عراق کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پوری عالمی برادری کو عراق کی سلامتی، یکجہتی اور مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہیں۔ لیکن ہم حقیقیت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ خطے میں تضاد، مایوسی اور بے چینی کی اصل وجہ فلسطین میں انصاف کا نہ کیا جانا ہے۔ شاہ عبداللہ نے پہلی مرتبہ کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے اس سے قبل ان کے والد انیس سو چورانے میں کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر چکے ہیں۔لیکن امریکہ سے گہری دووستی کے باوجود نہ انھیں کچھ ملا اور نہ عبداللہ دوم کو کچھ ملنے کی توقع ہے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ایسے حکمراں ہیں جو علاقہ میں امریکی مفادات کی حفاظت پر مامور ہیں جنھوں نے نہ تو کل عربوں کے لئے کچھ کیا اور نہ آئندہ کچھ کرسکیں گے فلسطینی عوام کو امن فراہم کرنے کے لئے انھوں نے نہ کل کچھ کیا اور نہ آئندہ کچھ کرپائیں گے کیونکہ فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والا اسلحہ خود امریکہ اسرائیل کو فراہم کرتا ہے اور اسرائیل کی علاقے میں دہشت گردی کو امریکی داد و تحسین ہی حاصل نہیں ہے بلکہ اسرائیل جو کچھ کرتا ہے وہ امریکہ کے اشاروں پر کرتا ہے لہذا وہ امریکہ جو خود مشرق وسطی میں بحران کا اصلی سبب ہے اس سےمشرق وسطی کے بحران کو حل کرنے کی درخواست اور امن کی بھیک مانگنا حماقت نہیں تو پھر کیا ہے ؟
اردن کے شاہ عبداللہ دوم
امریکہ کو مشرق وسطی میں امن بحال کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرنا چاہیے // صلح یکطرفہ طور پر حاصل نہیں ہوتی ہے
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اعراب و اسرائیل کے درمیان تنازعہ کو حل کرانے کے لئے فعال کردار ادا کرنا چاہیے
News ID 458569
آپ کا تبصرہ