مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گذشتہ کئی برسوں سے خود عرب ممالک کا دوست ظاہر کرنے والی صہیونی حکومت کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آچکا ہے۔ صہیونی حکام کی توسیع پسندی کی کوئی حد نہیں اور اس کا سب سے بڑا ہدف نیل سے فرات تک ایک گریٹر اسرائیل کا قیام ہے۔ اس مقصد کے لیے اس کی بنیادی پالیسی خطے کے ممالک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا اور ان کی حکومتوں و قوموں کو کمزور کرنا ہے تاکہ اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں کو آگے بڑھاسکے۔
اب تک ان پالیسیوں کے مقابلے میں سب سے بڑی رکاوٹ مزاحمتی محاذ رہا ہے۔ لبنان، شام، یمن اور عراق سمیت کئی ممالک میں مزاحمتی تحریکوں نے اسرائیلی جارحیت اور انتہا پسند دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے عوام کے لیے نسبتی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا ہے۔ لبنان کی مثال دی جائے تو اگر حزب اللہ موجود نہ ہوتی تو ملک کے اہم حصے صہیونی قبضے میں جاچکے ہوتے۔ عراق میں الحشد الشعبی نے نہ صرف داعش کو شکست دی بلکہ اسرائیلی عزائم کو بھی ناکام بنایا۔ صوبہ الانبار اور وسیع علاقے کبھی داعش کے قبضے میں تھے، مگر عوامی رضاکار فورسز نے دہشت گردی اور اسرائیلی اثر و رسوخ دونوں کا راستہ روکا۔ یمن میں انصار اللہ نے ملک کو تقسیم اور بیرونی قبضے میں جانے سے بچایا، ورنہ عبداللہ صالح جیسے عناصر کے غالب آنے کی صورت میں یمن آج مکمل طور پر غیر ملکی تسلط میں ہوتا۔
اردن میں بھی عوام نے نرم موقف مگر مسلسل احتجاج کے ذریعے صہیونی منصوبوں کو روکا اور اسرائیل کو وہاں قدم جمانے سے باز رکھا۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ خطے میں استحکام کا اصل سرچشمہ مزاحمتی محاذ ہے۔
آج اسرائیل استحکام کے ان عوامل کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔ حزب اللہ اور الحشد الشعبی کو غیر مسلح کرنے کا دباؤ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو لبنان اور عراق بھی شام جیسے انجام سے دوچار ہوں گے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ نہ حزب اللہ اور نہ ہی الحشد الشعبی اپنے ہتھیار رکھیں گے، بلکہ ان تنظیموں کو پہلے سے زیادہ اسلامی ممالک اور عالمی برادری کی حمایت حاصل ہوچکی ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ جہاں مزاحمت کمزور ہوتی ہے، وہاں اسرائیلی جارحیت کے لیے راستہ کھلتا ہے۔ اسی لیے آج کے حالات میں مسلم ممالک کو، اپنے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود، ایک اصول پر متحد ہونا ہوگا: مزاحمتی محاذ کی حمایت اور اس کو غیر مسلح کیے جانے کی مخالفت۔ بصورتِ دیگر اسرائیل قدم بہ قدم آگے بڑھے گا۔ اس کی توسیع پسندی کی کوئی حد نہیں لہذا ایک ایک کرکے سب اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔
صہیونی حکومت کے منصوبے کو ایک جملے میں سمیٹا جاسکتا ہے یعنی مزاحمتی تحریکوں کو غیر مسلح کرنا اور خطے کے استحکام کے عوامل کو ختم کرنا۔ اس خطرناک سازش کو ناکام بنانا نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کے تمام آزادی پسند عوام کی تاریخی ذمہ داری ہے۔ خطے کے مستقبل کا دار و مدار اقوام کے اتحاد اور استحکام پر ہے، اور گریٹر اسرائیل کے خواب کو ناکام بنانے کا واحد راستہ مزاحمتی محاذ کو مزید تقویت دینا ہے۔
آپ کا تبصرہ