مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران پر پہلے ہی سخت ترین پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی بحالی کی کسی بھی کوشش پر ایران کی طرف سے فیصلہ کن اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے ایران و امریکہ کے درمیان کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے وقت اور مقام سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کئی جعلی اور بے بنیاد خبریں شائع کی گئیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ خبریں صرف انتشار پیدا کرنے کے لیے پھیلائی گئیں۔
بقائی نے مزید کہا کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ وہ دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہیں اور اپنے تعلقات میں محتاط رویہ اپنائیں۔
ترجمان نے جعلی خبروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بعض ذرائع نے بیرونی سفارتخانوں کے ایران سے انخلاء کی خبریں دی تھیں، حالانکہ وہ سراسر جھوٹ ثابت ہوئیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں کو بغیر تحقیق کے نہ پھیلائیں۔
بقائی نے امریکہ کے ساتھ پیغام رسانی کے سلسلے میں واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہمیشہ ایک واضح سفارتی چینل موجود رہا ہے، جیسے کہ تہران میں سوئٹزرلینڈ اور واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانوں کے ذریعے۔ اس کے علاوہ مختلف مواقع پر بعض ثالث بھی پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں، جو کہ غیر معمولی بات نہیں۔
آپ کا تبصرہ