مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے بارے میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ کی ناراضگی کی وجہ سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے بعض معاہدوں سے خوش نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کا خیال ہے کہ عمانی حکام نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق مذاکرات میں تہران کو ضرورت سے زیادہ مراعات دی ہیں۔
امریکہ کو بالخصوص ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کی مشترکہ نگرانی اور کشتیوں کے مالکان سے گزرگاہ کی فیس وصول کرنے سے متعلق طے پانے والے معاملات پر اعتراض ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ عمان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران اتنا سخت مؤقف اختیار نہیں کیا جتنا امریکہ چاہتا تھا۔
دوسری جانب روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اگست کو عمان کے اقدامات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر عمان ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل کی راہ میں رکاوٹ بنا تو اسے سخت بمباری کا نشانہ بنایا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ