30 جولائی، 2025، 6:22 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

غزہ میں موت کا رقص، بربریت کی تاریخ رقم، بھوک کو ہتھیار بناکر فلسطینیوں کا قتل عام

غزہ میں موت کا رقص، بربریت کی تاریخ رقم، بھوک کو ہتھیار بناکر فلسطینیوں کا قتل عام

صہیونی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے لئے غذائی قلت اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بربریت کی تاریخ رقم کررہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: غزہ جو کبھی زیتون کے درختوں اور ساحلی ہواؤں کی سرزمین تھی، آج انسانی ضمیر کی آزمائش گاہ بن چکی ہے۔ یہاں گولیوں سے زیادہ تیز رفتار بھوک، بموں سے زیادہ ہولناک پیاس اور خاموش مگر اذیت ناک موت انسان دشمن منصوبے کا حصہ بن چکی ہیں جسے جدید دنیا جنگ کہہ کر نظرانداز کر رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک منظم نسل کشی ہے۔ جب بچوں کے جسم بھوک سے سوکھے پتے بن جائیں، جب نان شبینہ کے لیے لگی قطاروں پر بم برسیں، تو یہ جنگ نہیں رہتی، یہ ظلم کی وہ شکل بن جاتی ہے جو تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں لکھی جائے گی۔ 

اسرائیلی حکام نے جنگ سے پہلے باقاعدہ حساب کتاب کر کے غزہ کے ہر شہری کے لیے صرف اتنی کیلوریز کی حد مقرر کی جس سے وہ بمشکل زندہ رہے، مگر کبھی پیٹ نہ بھرے۔ تصاویر اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ موت غزہ میں ہزار چہروں کے ساتھ وارد ہوتی ہے۔ کوئی امدادی ٹرک کے پاس گولی کا نشانہ بنتا ہے، کسی کے ہاتھ میں ایک نان کا ٹکڑا ہے اور وہ جاں بحق ہوجاتا ہے، ایک بچہ خوراک کے ڈبے کی طرف لپکتا ہے اور بدن کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ بھاگتی بھیڑ کے نیچے کچل کر مر جاتے ہیں۔ اسرائیل نے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہ روش کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ نوآبادیاتی استبداد کی توسیع ہے، جو تاریخی طور پر خوراک، پانی، اور زمین پر قبضے کے ذریعے اقوام کو زیر کرنے کی حکمت عملی ہے۔ آج جب دنیا کے دسترخوان کھانے سے بھرے ہیں، غزہ کی زمین بھوک سے جل رہی ہے اور آسمان سے صرف آگ برستی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر غزہ کے بچے ہیں۔ خیموں میں زندگی گزارنے والے یہ بچے موت سے زیادہ تیز بھوک کے زخم سہتے ہیں۔

یہ کوئی محض جنگ نہیں، بلکہ استعمار، نسلی امتیاز، اور سامراجی ظلم کی ایسی شکل ہے جو آج کی مہذب دنیا کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔

غزہ میں بھوک اور قحط کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ 365 کلومیٹر لمبی پٹی 2007 سے صہیونی حکومت کے محاصرے میں ہے۔ حالیہ جنگ سے پہلے افشا ہونے والے صہیونی دستاویزات ظاہر کرتے ہیں کہ قابض قوتوں نے غزہ میں لوگوں کو زندہ رکھنے کے لیے مخصوص کیلوریز کی مقدار کا تفصیلی حساب لگایا تھا۔ صہیونیوں کے طے کردہ کیلوریز کا مقصد یہ تھا کہ فلسطینی صرف زندہ رہ سکیں۔

یہ سازش ہمیں تاریخ میں نوآبادیاتی حکام کی انہی کوششوں کی یاد دلاتی ہے، جب غلام مزدوروں کو صرف اتنی خوراک دی جاتی تھی کہ وہ محنت کرسکیں۔ جزائر غرب الہند کی چینی کی فیکٹریوں کے مالکان بھی غلام مزدوروں کو زندہ رکھنے کے لیے مطلوبہ خوراک کی مقدار کا حساب لگاتے تھے۔ آج یہی نسل پرستانہ سلوک پیچیدہ تر اوزاروں اور انسانی ہمدردی کے لبادے میں دوبارہ کیا جارہا ہے۔

یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ آخر کیوں اسرائیلی اقدامات صرف خوراک کی ترسیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ منظم انداز میں خوراک کی پیداوار سے متعلق بنیادی ڈھانچوں جیسے کھیتوں، خوراک کی فیکٹریوں، نان بائیوں اور حتی کہ زیتون کے درختوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں؟

صہیونی قابضوں کی جانب سے کی جانے والی یہ تباہی صرف موجودہ پیداوار کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں بھی اس کی بحالی کو ناممکن بنانے کے لیے ہے۔ یہ حکمت عملی تاریخی نوآبادیاتی جنگوں سے ملتی جلتی ہے، جہاں کسی قوم کو مکمل قتل کرنے کے بجائے اس کی خود کفالت اور بقا کی صلاحیت کو مٹانا زیادہ مؤثر طریقہ سمجھا جاتا تھا۔

آج غزہ میں جو منظم طور پر بھوک مسلط کی جا رہی ہے، وہ انسانی تاریخ کے ان الم ناک ابواب کی یاد دلاتی ہے جہاں نوآبادیاتی طاقتوں نے بھوک کو باقاعدہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ آئرلینڈ میں 1845 سے 1852 کے دوران آلو کی قحط اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اس وقت ایک طرف آئرلینڈ سے غذائی اجناس انگلستان کے منافع کے لیے برآمد کی جارہی تھیں، اور دوسری طرف لاکھوں آئرش باشندے فاقہ کشی کا شکار تھے یا ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے۔

برطانوی حکومت صرف تماشائی نہیں تھی، بلکہ اس نے اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں کے ذریعے اس بحران کو مزید شدید کیا۔ خوراک کی امداد کے عوض آئرش باشندوں کو بے فائدہ تعمیراتی منصوبوں میں مشقت پر مجبور کیا گیا۔

یہی ماجرا ہندوستان میں ایک وسیع تر اور منظم انداز میں دہرایا گیا، جہاں برطانوی راج کے دوران 20 سے زائد شدید قحط پڑے اور کروڑوں جانیں چلی گئیں۔ سب سے مہلک قحط 1943 کا قحط بنگال تھا، جس میں تین ملین افراد موت کا شکار ہوئے۔ برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے مدد کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے نسلی تعصب کا مظاہرہ کیا اور قحط کا الزام خود بھارتی عوام پر دھر دیا۔

خوراک، جو کہ فطری طور پر غیرسیاسی ہونی چاہیے، استعماری طاقتوں کے ہاتھوں طاقت کے کھیل کا آلہ بن گئی۔ مائیک ڈیوس اپنی کتاب Late Victorian Holocausts میں بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی کے ہندوستان، چین اور افریقہ میں آنے والے قحط قدرتی نہیں، بلکہ استعماری پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ بھارت سے انگلستان غلہ برآمد ہوتا رہا، جب کہ قریبی دیہاتوں میں لوگ غلے کے گوداموں کے سائے تلے بھوکے مر رہے تھے۔

انسانی علوم کے ماہر سڈنی مِنٹس بتاتے ہیں کہ کس طرح چینی جیسی ایک پرتعیش شے یورپی خوراک کا بنیادی حصہ بنی، اور یہ سب کچھ لاکھوں افریقیوں کی جبری مشقت کے بل پر ممکن ہوا جنہیں لاطینی امریکا اور جزائر غرب الہند کے کھیتوں میں غلام بنا کر لایا گیا۔ یہ کھیت صرف اجناس کے مراکز نہیں بلکہ ظلم و استحصال کی تجربہ گاہیں بن گئے، جہاں افریقیوں کے روایتی زرعی علم کو بھی لوٹا گیا۔

ماحولیاتی سامراجیت کے ماہر الفریڈ کراسبی کے مطابق یورپی تسلط صرف زمینی قبضے تک محدود نہیں تھا، بلکہ ایک حیاتیاتی یلغار بھی تھی۔ بیج، مویشی، اور یہاں تک کہ گھاس پھونس بھی نوآبادیاتی پالیسی کا حصہ بنے، جس نے مقامی زرعی نظام اور ماحول کو تہس نہس کر دیا۔ یورپی گندم نے مقامی مکئی کو بدل دیا۔ یوں ایک نیا حیاتیاتی نظام قائم کیا گیا جو مقامی لوگوں کے فائدے کے بجائے صرف نوآبادیاتی تسلط کو مضبوط کرتا تھا۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قحط کوئی اتفاقی آفت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ظلم بھی ہوسکتا ہے۔ آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی ظالمانہ تاریخ کا تسلسل ہے، جہاں بھوک کو نسل کشی کا ایک مؤثر ہتھیار بنایا جاتا ہے۔

News ID 1934580

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha