مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی طبی امداد کے ڈائریکٹر محمد ابو عفش نے خبردار کیا ہے کہ محصور علاقے میں غذائی قلت اب انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
الجزیرہ چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکی پشت پناہی اور اسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ میں خوراک، دوا اور پینے کے پانی تک رسائی مکمل طور پر منقطع ہوچکی ہے۔
ابو عفش کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران نہ تو کوئی غذائی قافلہ غزہ پہنچا اور نہ ہی ضروری طبی سامان۔ اس وقت تقریباً 17 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ نوزائیدہ بچوں کے لیے دودھ اور اہم غذائی اجزاء کی عدم دستیابی کے باعث اموات کا خطرہ شدید حد تک بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غذائی قلت کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کی کمی نے بھی حالات کو ناقابل برداشت بنادیا ہے۔ ہسپتالوں میں داخل متعدد زخمی اور مریض ادویات اور علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ قابض فورسز دانستہ طور پر خوراک کے ذخیرے کو تباہ کررہی ہیں۔
ابو عفش نے مزید کہا کہ اگر فوری طور پر طبی سامان اور غذائی امداد غزہ نہ پہنچی تو اموات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ یونیسف نے غزہ میں 6 ٹرکوں پر مشتمل طبی امدادی سامان جلد روانہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امید ہے کہ یہ معمولی قدم بھی غزہ کے متاثرین کی مشکلات کچھ کم کرسکے گا۔
آپ کا تبصرہ